خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 209 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 209

خطبات مسرور جلد 15 209 مه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 بڑھانے والی ہیں۔" استسقاء کے مریض کی طرح پیاس نہیں بجھتی۔" جس طرح ایک مریض جس کو پیاس کی بیماری ہو اور پانی پیتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ پانی پی پی کے ختم ہو جاتا ہے اور اس کی پیاس نہیں بجھتی اسی طرح دنیا کی طلب کا معاملہ ہے۔دنیا کی طلب تو کبھی ختم ہی نہیں ہوگی فرمایا " یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔پس یہ بے جا آرزوؤں اور حسرتوں کی آگ بھی منجملہ اسی جہنم کی آگ کے ہے۔" دنیاوی آرزوئیں ہیں۔حسرتیں ہیں تو یہ بھی آگ ہے اور یہ جہنم ہے۔فرمایا کہ "جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں لینے دیتی بلکہ اس کو ایک تذبذب اور اضطراب میں غلطان و پیچان رکھتی ہے۔" فرمایا اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہر گز پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و دولت یازن و فرزند " بیوی اور بچے " کی محبت کے جوش اور نشے میں ایسا دیوانہ اور از خود درفتہ نہ ہو جاوے کہ اس میں اور خدا تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا ہو جاوے۔اللہ تعالیٰ سے دُوری نہ پید اہو جائے ان چیزوں کی وجہ سے۔فرمایا کہ " مال اور اولاد اسی لئے تو فتنہ کہلاتی ہے۔ان سے بھی انسان کے لئے ایک دوزخ تیار ہوتا ہے اور جب وہ ان سے الگ کیا جاتا ہے تو سخت بے چینی اور گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے اور اس طرح پر یہ بات کہ نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَة ( الهمزة: 7 تا 8 " یعنی اللہ کی خوب بھڑ کائی ہوئی آگ ہے جو دلوں کے اندر تک جا پہنچتی ہے)۔فرمایا کہ " منقولی رنگ میں نہیں رہتا بلکہ معقولی شکل اختیار کر لیتا ہے۔پس یہ آگ جو انسانی دل کو جلا کر کباب کر دیتی ہے اور ایک جلے ہوئے کوئلے سے بھی سیاہ اور تاریک بنادیتی ہے۔یہ وہی غیر اللہ کی محبت ہے۔' " ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 101-102) اللہ کے علاوہ بھی کوئی محبت ہے تو وہ آگ بن جاتی ہے۔اس دنیا میں جہنم بن جاتی ہے۔پس ہمیں ان ملکوں کی آسائشیں اور آرام خدا تعالیٰ کی عبادت سے غافل کرنے والے نہ ہوں۔اس کے حق ادا کرنے سے محروم کرنے والے نہ ہوں۔ہمارے اچھے حالات، ہمارے بہتر مالی حالات جو ہیں ہمیں اپنے کمزور مالی حالات رکھنے والے بھائیوں کے حق ادا کرنے سے کبھی محروم کرنے والے نہ ہوں۔اسی طرح اشاعت اسلام اور تبلیغ اسلام میں بھی ہم اپنا کر دار ادا کرنے والے ہوں۔نہ کہ اس مقصد کو بھول جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے کا مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھی حق ادا کئے جائیں اور بندوں کے بھی حق ادا کئے جائیں اور تبلیغ کا جو حق ہے، اشاعت اسلام کا جو مقصد ہے اس کو پورا کیا جائے۔اسی سے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا مقصد ہم پورا کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں رہیں اور اس دنیا کی دھو کے والی زندگی کبھی ہم پر حاوی نہ ہو۔ہم اس دنیا کی جہنم سے بھی بچنے والے ہوں اور آخرت کی جہنم سے بھی بیچنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضا ہمارے لئے اس دنیا کو بھی جنت بنادے اور آخرت میں بھی ہم جنت حاصل کرنے والے ہوں۔ابھی نماز کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ مکرم بشارت احمد صاحب ابن مکرم محمد