خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 208
خطبات مسرور جلد 15 208 عه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 کے لئے سواری اور زادِ راہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزل مقصود پر پہنچنا ہوتی ہے ، نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات۔اسی طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر " پھر اس تسلسل میں آپ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی اس دعا کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة:202) کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة:202) اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے۔لیکن کس دنیا کو ؟ حَسَنَةُ الدُّنْیا کو۔" اس دنیا کی حسنات کو، ایسی دنیا کو " جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جاوے۔اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حسنات الآخرۃ کا خیال رکھنا چاہئے اور ساتھ ہی حَسنۃ الدنیا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصول دنیا کا ذکر آگیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصولِ دنیا کے لئے اختیار کرنی چاہئے۔دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو، نہ ہم جنسوں میں کسی عار و شرم کا باعث۔ایسی دنیا بیشک حَسَنَةُ الآخرت کا موجب ہو گی۔" ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 91-92) پھر عذاب اور جہنم کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ " سمجھنا چاہئے کہ جہنم کیا چیز ہے؟ ایک جہنم تو وہ ہے جس کا مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے اور دوسرے یہ زندگی بھی اگر خدا تعالیٰ کے لئے نہ ہو تو جہنم ہی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے انسان کا تکلیف سے بچانے اور آرام دینے کے لئے متولی نہیں ہوتا۔یہ خیال مت کرو کہ کوئی ظاہر دولت یا حکومت، مال و عزت، اولاد کی کثرت کسی شخص کے لئے کوئی راحت یا اطمینان، سکینت کا موجب ہو اور نہیں جاتی ہے اور وہ دم نقد بہشت ہی ہوتا ہے ؟" یعنی یہ چیزیں سکینت کا موجب نہیں ہو تیں نہ ان سے جنت ملتی ہے۔فرمایا " ہر گز نہیں۔" ایسی چیزیں بہشت نہیں مہیا کرتیں۔فرمایا کہ " وہ اطمینان اور وہ تسلی اور تسکین جو بہشت کی انعامات میں سے ہیں ان باتوں سے نہیں ملتی۔وہ خدا ہی میں زندہ رہنے اور مرنے سے مل سکتی ہے۔" وہ تبھی مل سکتی ہے جب ہر وقت اللہ تعالیٰ سامنے ہو۔دنیا وی حسنات بھی انسان اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق حاصل کرے تو آخرت کی حسنات بھی تبھی مل سکتی ہیں۔اور وہ خداجب تک سامنے نہ ہو اور ہر وقت یہ خیال نہ ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے اس وقت تک انسان پھر عمل بھی نہیں کر سکتا۔فرمایا " جس کے لئے انبیاء علیہم السلام خصوصاً ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام کی یہی وصیت تھی کہ لا تموتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ( البقرة : 133)۔" کہ ہر گز نہیں مر و مگر اس حالت میں کہ تم فرمانبردار ہو۔اس کا مطلب بھی یہی ہے اب انسان کو تو نہیں پتا۔نہ مرنا اور جینا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے احکام پر نظر ہو اور آخرت کی فکر ہو۔فرمایا " لذات دنیا تو ایک قسم کی ناپاک حرص پیدا کر کے طلب اور پیاس کو بڑھا دیتی ہیں۔دنیا کی لذات کیا ہیں۔دنیا کی طلب اور پیاس کو