خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 207
خطبات مسرور جلد 15 207 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 اور اسے دیکھ کر پھر دینی لحاظ سے ویسا بننے کی کوشش کرنی چاہئے یا اس سے بھی بہتر بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بڑی تفصیل سے اس مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ ہمیں دنیا کے شغلوں اور مالوں کو کس حد تک اپنانا چاہئے۔قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو سمجھتے ہوئے سب سے زیادہ فہم اور ادراک تو آپ کو تھا۔چنانچہ ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ " خدا تعالیٰ نے دنیا کے شغلوں کو جائز رکھا ہے کیونکہ اس راہ سے بھی ابتلاء آتا ہے۔۔۔۔" مطلب یہ ہے اگر دنیاوی کام کوئی نہیں کر رہا۔مالی حالات بہت برے ہیں تو تب بھی ابتلاء آ جاتا ہے۔انسان مشکلات میں گرفتار ہو جاتا ہے اور فرمایا کہ اسی ابتلاء کی وجہ سے انسان پھر چور بھی بن جاتا ہے۔قمار باز بھی بن جاتا ہے۔جوا کھیلنے لگ جاتا ہے۔ٹھگ بن جاتا ہے۔ڈکیت بن جاتا ہے اور کیا کیا بری عادتیں اختیار کر لیتا ہے۔مالی کمزوری بھی برائیوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔فرمایا "مگر ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔دنیوی شغلوں کو اس حد تک اختیار کرو کہ وہ دین کی راہ میں تمہارے لئے مدد کا سامان پیدا کر سکیں اور مقصود بالذات اس میں دین ہی ہو۔" یعنی اس سے تمہارا مقصد دین حاصل کرنا ہو۔یعنی کہ دین کبھی بھی ثانوی حیثیت نہ رکھے۔دنیا کماؤ، دنیا سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ہر وقت اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کا تقویٰ تمہارے سامنے ہو۔دین کی تعلیم تمہارے سامنے ہو۔فرمایا کہ " پس ہم دنیوی شغلوں سے بھی منع نہیں کرتے اور یہ بھی نہیں کہتے کہ دن رات دنیا کے دھندوں اور بکھیڑوں میں منہمک ہو کر خدا تعالی کا خانہ بھی دنیا ہی سے بھر دو۔" یعنی خدایا د ہی نہ رہے۔عبادتوں کے وقت بھی دنیاوی چیزوں میں ملوث ہو۔نمازوں کے وقت میں انٹر نیٹ پر مصروف ہو۔فلمیں دیکھنے میں مصروف ہو یا کوئی اور دنیاوی پروگرام دیکھ رہے ہو۔یہ نہیں۔فرمایا کہ "اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ محرومی کے اسباب بہم پہنچاتا ہے اور اس کی زبان پر نراد عولی ہی رہ جاتا ہے۔" پھر دعوی ہے، حقیقت کی بیعت نہیں ہے۔ایمان نہیں ہے۔" الغرض زندوں کی صحبت میں رہو تا کہ زندہ خدا کا جلوہ تم کو نظر آوے۔" ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 73) پھر ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ : " کوئی یہ نہ سمجھ لیوے کہ انسان دنیا سے کوئی غرض اور واسطہ ہی نہ رکھے۔" فرمایا کہ " میرا یہ مطلب نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ دنیا کے حصول سے منع کرتا ہے بلکہ اسلام نے رہبانیت کو منع فرمایا ہے۔یہ بزدلوں کا کام ہے۔" دنیا سے ہٹ کے رہو گے تو یہ بھی بزدلوں کا م ہے۔"مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں " کہ دنیا کے تعلقات بھی ہوں لیکن دنیا مقصود بھی نہ ہو کیونکہ اس کا نصب العین دین ہوتا ہے اور دنیا، اس کا مال و جاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصولِ دنیا میں اصل غرض دین ہو اور ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر