خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 206

خطبات مسرور جلد 15 206 عه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 انعام اور بخشش پر اعتماد ہو۔اپنے مال پر اعتماد نہ رکھو۔اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہو۔اس پر تو کل ہو اور جب تم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا جو اجر و ثواب ملنا ہے اس پر تمہاری نگاہ جم جائے اور تم مصائب کو ذریعہ کو اب سمجھو۔(سنن ابن ماجه كتاب الزهد باب الزهد في الدنيا حديث 4100) انسان پر مصیبتیں آتی ہیں۔مشکلات آتی ہیں۔اس کی وجہ سے جو مال ضائع ہوا ہے اس کے اوپر رونے دھونے نہ لگ جاؤ بلکہ سمجھو کہ اس وجہ سے شاید اللہ تعالیٰ میرا امتحان لے رہا ہے اور اس کا بھی مجھے ثواب ملے گا۔پس اصل چیز یہ ہے کہ دنیاوی مالوں کے نقصان پر اتنی جزع فزع انسان نہ کرے جس سے شرک کی بُو آنے لگے۔کئی کاروباری لوگ ہوتے ہیں جو مالی نقصان پر ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں۔بعض خود کشیاں کر لیتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ پر تو کل ہو اور قناعت ہو تو کبھی یہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سے ، مومنین سے ، اپنی امت کے افراد سے زہد اور دنیا سے بے رغبتی کے یہ معیار چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احمدیوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی وجہ سے یہ ادراک عطا فرمایا ہے کہ دنیا کے نقصان ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف پہلے سے بڑھ کر رجوع کرنا چاہئے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں بھی اور بعض اور جگہوں پر بھی احمدیوں کے لاکھوں اور کروڑوں کے کاروبار مخالفین نے تباہ کئے اور جلائے بلکہ ایک وقت میں پاکستان کے ایک وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ احمدیوں کے ہاتھ میں کشکول پکڑا دوں گا اور اب یہ مانگتے پھریں گے کیونکہ میں نے کشکول پکڑا دیا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنے والے ان احمدیوں نے نہ حکومت سے مانگا، نہ کشکول لے کر کسی اور سے مانگا بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے اُن کا ہر اروں اور لاکھوں کا جو کار و بار تباہ ہو ا تھا وہ کروڑوں میں بدل گیا۔پس یہ مثالیں جہاں احمدیوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے ہیں وہاں اپنے حالات کی وجہ سے باہر نکلے ہوئے احمدیوں کے لئے، دوسرے ممالک میں، ترقی یافتہ ممالک میں آئے ہوئے احمدیوں کے لئے یہ احساس پیدا کرنے والی بھی ہونی چاہئے کہ پاکستان سے باہر نکل کر اللہ تعالیٰ نے جو مالی لحاظ سے بہتری عطا فرمائی ہے یہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔پس جب یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی برکت کی وجہ سے ہے تو پھر ہمارے بہتر حالات کسی قسم کے تفاخر کا ذریعہ نہیں ہونے چاہئیں۔ہمیں اس پر کوئی فخر نہیں ہونا چاہئے۔ہمیں مال اور دولت پر دنیا داروں کی طرح گرنا نہیں چاہئے۔ہمیں حریص نظر سے دوسروں کے مال کو دیکھنا نہیں چاہئے۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اگر کسی چیز کو رشک کی نگاہ سے دیکھنا ہے تو دینی لحاظ سے اپنے سے بہتر کو ہمیں دیکھنا چاہئے۔(سنن الترمذی ابواب صفة القيامة والرقائق والورع باب منه حدیث (2512)