خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 205

خطبات مسرور جلد 15 205 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 دنیا سے بے رغبتی یہ نہیں ہے کہ معاشرے سے انسان کٹ جائے یاد نیا سے بالکل کٹ جائے۔شادی بیاہ بھی نہ کرو۔اولاد کے حقوق بھی ادا نہ کرو۔بیوی کے حق بھی ادا نہ کرو۔جس کا روبار میں ہو اس کو بھی چھوڑ دو اور ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھ جاؤ۔دنیاوی کاموں میں محنت نہ کرو۔سادھو بن جاؤ۔ہر گز اس کا یہ مطلب نہیں۔اسلام یہ نہیں چاہتا۔ہمارے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔آپ نے شادی بھی کی۔آپ نے بیویوں کے حق بھی ادا فرمائے۔آپ کی اولاد بھی ہوئی۔آپ نے اولاد کے حق بھی ادا فرمائے۔آپ کے پاس مال و دولت بھی آیا۔بکریوں کے ریوڑ کے ریوڑ آپ کے پاس ہوتے تھے جو روایتوں میں آتا ہے کہ بعض دفعہ آپ نے بغیر کسی فکر کے ایک کافر کو دے دیئے کہ اگر تمہیں اتنے ہی پسند ہیں اور اتنی حرص سے دیکھ رہے ہو تو اسے لے جاؤ اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فى سخائه عل الله حدیث 6020) لیکن آپ نے ان ساری چیزوں کے ہونے کے باوجود اللہ اور بندوں کے حق ادا کئے اور ان چیزوں کو صرف سامنے نہیں رکھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا میری سنت پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔سادھو نہیں بن جانا۔دنیا میں بھی رہنا ہے۔ان چیزوں کو سامنے بھی رکھنا ہے کیونکہ میں یہ کر تا رہا ہوں۔(سنن النسائی کتاب النكاح باب النهي عن التبتل حديث 3219) پس ہمیں سمجھنا چاہئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا ہماری عبادتوں میں آڑے نہ آئے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے سے نہ روکے۔مال و دولت کی کمائی میں مصروفیت ہمیں اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے سے غافل کرنے والی نہ ہو اور اسی طرح دوسرے کی دولت اور جائیداد پر حرص کی نظر نہیں ہونی چاہئے کیونکہ حرص کی نظر ہی ہے جو پھر دوسروں کو نقصان پہنچانے کی سوچ بھی پیدا کرتی ہے اور دنیا میں جو فساد ہے وہ بھی اسی حرص کی وجہ سے ہے۔بڑی بڑی طاقتیں چھوٹے ملکوں پر صرف اس لئے نظر رکھ رہی ہیں کہ یہ ہمارے زیر نگیں ہوں گے اور ان کی جو دولت ہے ، ان کے جو قدرتی وسائل ہیں ان سے ہم فائدہ اٹھائیں۔پس جب دوسروں کی دولت پر نظر ہو تو دنیا میں یہ فساد بھی اسی لئے پیدا ہوتا ہے چاہے وہ افراد کے درمیان میں ہو یا بڑی حکومتوں کے درمیان میں ہو۔اس لئے فرمایا تم میں قناعت پیدا ہونی چاہئے۔دوسروں کو حرص سے نہ دیکھو۔ہاں اپنی صلاحیتوں اور اپنے ہنر کو کام میں لاؤ۔محنت کرو۔اور جب انسان محنت کرے تو پھر دولت کمانے میں کوئی حرج نہیں ہے بشر طیکہ یہ مال اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حق ادا کرنے میں بھی روک نہ بنے۔دنیا کی بے رغبتی کی وضاحت خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمائی ہے۔فرمایا کہ دنیا سے بے رغبتی اور زہد یہ نہیں کہ آدمی اپنے اوپر کسی حلال کو حرام کر لے۔جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں ان کو اپنے اوپر حرام کرنا یہ دنیا سے بے رغبتی کا مطلب نہیں ہے۔اور نہ اس کا یہ مطلب ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دیا ہے اس کو برباد کر دو۔فرمایا بلکہ زہد یہ ہے کہ تمہیں اپنے مال سے زیادہ خدا کے