خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 204 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 204

خطبات مسرور جلد 15 204 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 ہے) وہ یہ ہے کہ میری امت خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے گی اور دنیاوی توقعات کے لمبے چوڑے منصوبے بنانے میں لگ جائے گی اور ان خواہشات کی پیروی کے نتیجہ میں وہ حق سے دور چلی جائے گی۔دنیا کمانے کے منصوبے آخرت سے غافل کر دیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو! یہ دنیا رختِ سفر باندھ چکی ہے اور آخرت بھی آنے کے لئے تیاری پکڑ چکی ہے۔دونوں طرف سے سفر شروع ہے۔دنیا اپنے انجام کی طرف جارہی ہے۔آخر قیامت آنی ہے اور آخرت میں بھی حساب کتاب ہونا ہے وہاں بھی تیاری شروع ہے۔اور فرمایا کہ اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے کچھ غلام اور بندے ہیں۔دنیا کے بھی کچھ غلام ہیں۔کچھ آخرت کی فکر کرنے والے بھی ہیں۔فرمایا پس اگر تم میں استطاعت ہو کہ دنیا کے بندے نہ بنو تو ضرور ایسا کرو۔تم اس وقت عمل کے گھر میں ہو اور ابھی حساب کا وقت نہیں آیا۔مگر کل تم آخرت کے گھر میں ہو گے اور وہاں کوئی عمل نہیں ہو گا۔(بحار الانوار از الشيخ محمد باقر مجلسی الجزء التاسع والستون كتاب الايمان والكفر حدیث 63 صفحہ 263-264 مطبوعہ الاميرة بيروت 2008ء) جو عمل ہونے ہیں جن کا نتیجہ ملنا ہے وہ اسی دنیا میں ملنا ہے۔اس لئے اپنے اعمال ٹھیک کرو۔پس یہ دنیا عمل کا گھر ہے اس دنیا کے اعمال اگلے جہان میں جزا یا سزا کا ذریعہ بنیں گے۔پس کیا ہی خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو اللہ تعالیٰ کی اس بات کو یا درکھیں کہ یہ دنیا محض لہو ولعب ہے اور زینت کے اظہار اور ایک دوسرے پر اپنے مال اور اولاد کی وجہ سے فخر کرنا ہے۔اور اس کی حیثیت کیا ہے؟ کسی سوکھے ہوئے گھاس پھوس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔جو خشک ہوتا ہے اور چورا چورا ہو جاتا ہے اور ہوائیں اس کو اڑا کر لے جاتی ہیں۔اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے اور یہی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے کہ نیک عمل کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنو۔صحابہ رضوان اللہ علیہم ہر وقت اس بات کی تلاش میں رہتے تھے کہ کس طرح اور کون سے ذریعہ سے ہم سیکھیں اور سمجھیں جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنائیں اور نیک عمل کرنے والے بنائیں۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھتے بھی تھے۔چنانچہ اسی غرض کے لئے ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسا کام بتائیے جب میں اسے کروں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرنے لگے اور باقی لوگ مجھے چاہنے لگیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت بھی ہو جائے اور بندے بھی مجھے پسند کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا سے بے رغبت اور بے نیاز ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرنے لگے گا۔جو کچھ لوگوں کے پاس ہے یعنی دنیاوی مال و متاع۔اس کی خواہش چھوڑ دو۔لوگوں کی طرف حریص نظر سے نہ دیکھو۔لوگوں کے مالوں کو حریص نظر سے نہ دیکھو۔لوگ تجھ سے محبت کرنے لگ جائیں گے۔(سنن ابن ماجه کتاب الزهد باب الزهد فی الدنیا حدیث 4102)