خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 203
خطبات مسرور جلد 15 203 مه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 حکموں کو ماننے کے لئے ایک درد اور کوشش ہونی چاہئے۔کہنے والے تو کہہ دیں گے کہ ہم تو نمازیں بھی پڑھتے ہیں، عبادتیں کرتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں پیدا کی ہیں اگر ان کے حصول کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟ ایک تو عبادتوں میں اخلاص و وفا ہونا چاہئے۔یہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری عبادتیں بھی اخلاص و وفا والی ہونی چاہئیں۔دوسرے نعمتوں سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حق بھی ادا کرنے چاہئیں۔ہمارے ہاں کیا ہے ؟ ملکوں کے بادشاہ سیر وں پر جانے کے لئے جہازوں کا بیڑ ا ساتھ لے کے جاتے ہیں۔بڑے بڑے ساز و سامان ساتھ لے کر جاتے ہیں۔کئی ملین ڈالر کے اخراجات ان کے اوپر ہوتے ہیں۔اور اپنے ملک کے غریب ایسے بھی ہیں جن کو بعضوں کو ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے مل رہی ہے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دُوری ہے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ کا نام لینا اور دوسرے اس کا نام لے کر پھر اس کے جو حکم ہیں ان سے انکار کرنا، یہ پھر اللہ تعالیٰ کی سزا کا مورد بناتا ہے۔اور یہ لہو ولعب ہے۔ظاہری کھیل کو دہے اور ظاہری زینت اور تفاخر ہے۔اپنے مال کا ناجائز اظہار ہے۔اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ " ظاہری نماز اور روزہ اگر اس کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔" (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 420) اور ایسے لوگوں کی نمازوں کے بارے میں ہی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (الماعون: 5) کہ ایسے نمازیوں پر ہلاکت ہو۔اور حقیقت میں تو اللہ تعالیٰ ایسی عبادتیں اور ایسے کام ہم سے چاہتا ہے جو ہماری روحانی حالت میں بہتری پیدا کرنے والے ہوں۔بندوں کے حقوق اس جذبے کے تحت ہم ادا کرنے والے ہوں جو ہمارے اندر درد پیدا کریں، نہ کہ ہم کسی پر احسان کر رہے ہوں۔اور ایسی عبادتیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کو پھر جذب کرنے والی بنتی ہیں اور ایسی دولت بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بناتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ میں نے کہا دنیا کی مال و دولت اور دنیا کمانے سے منع نہیں فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں پیدا کی ہیں یقیناً مومنوں کے لئے جائز ہیں بشر طیکہ جائز ذریعہ سے حاصل کی جائیں اور وہ دین کے راستے میں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حق ادا کرنے کے راستے میں روک نہ بنیں۔عبادتوں میں روک نہ بنیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اُمت سے متعلق اس بات کی فکر تھی کہ جو پاک انقلاب آپ نے صحابہ میں پیدا کیا اور انہوں نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی روح کو جس طرح سمجھا وہ آئندہ آنے والے مسلمانوں میں مفقود نہ ہو جائے، ختم نہ ہو جائے۔چنانچہ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنی امت کے بارے میں جس بات کا سب سے زیادہ اندیشہ کرتا ہوں ( مجھے خطرہ ہے، خوف ہے یا فکر ہے۔خوف تو نہیں فکر