خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 202
خطبات مسرور جلد 15 202 مه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 یہ بات جو آپ نے فرمائی یہ صرف اس زمانے کی یا پرانی بات نہیں ہے بلکہ آجکل بھی جبکہ خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا کا مالی نظام بڑا مستحکم ہے اور نہ صرف یہ بلکہ بڑے بڑے بینک بھی موجود ہیں۔اس کے باوجود یہ ہوتا ہے کہ بینکوں کے سہارے کاروبار اور تجارت کرنے والے اپنے کاروباروں اور تجارتوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں بلکہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بینک بھی انتہائی نقصان پر جانا شروع ہو جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں روز خبریں آرہی ہوتی ہیں۔کہیں بینکوں نے اپنے ملازمین کو نکال دیا ہے، اس میں کمی کر رہے ہیں۔کہیں شہروں میں اپنی برانچیں بند کر رہے ہیں۔بڑی بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کو فارغ کرتی ہیں۔کئی کمپنیوں کو ان کے ملازمین اور پھر بینک بھی جنہوں نے قرضے دیئے ہوتے ہیں عدالتوں میں گھسیٹتے ہیں جہاں ان کو اپنے کاروباروں کو دیوالیہ ثابت کرنا پڑتا ہے۔اپنے آپ کو bankruptڈیکلیئر (declare) کرنا پڑتا ہے۔ان کی جائیدادیں فروخت ہو جاتی ہیں اور وہ کوڑی کوڑی کے محتاج بھی ہو جاتے ہیں۔2008ء میں جو معاشی انحطاط ہوا اس کے اثرات ابھی تک چل رہے ہیں۔بڑے بڑے کاروبار دیوالیہ ہو گئے حتی کہ حکومتیں بھی متاثر ہوئیں۔تیل پیدا کرنے والے ممالک سمجھتے تھے کہ ہماری یہ دولت کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتی لیکن ہو گئی۔ہوا کیا ان کے ساتھ ؟ وہاں بھی حکومتوں کو اپنے اخراجات کم کرنے پڑے۔اپنے ملازموں کو نکالنا پڑا۔مسلمان ملکوں کی بد قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جس دولت سے نوازا اسے وہاں کے بادشاہوں اور حکمرانوں اور سیاسی لیڈروں نے بجائے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بنانے کے اپنی عیاشیوں میں لٹایا اور لٹا رہے ہیں۔جس تیل کی دولت اور دوسری دولت سے انسان کو بچانے اور غریب مسلمان ملکوں اور دوسرے ملکوں کو بھی پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کرتے، اپنے ملکوں کے بھوکوں اور نگوں کی بھوک اور ننگ ختم کرتے، اس طرف انہوں نے توجہ نہیں دی اور اپنی تجوریوں کو بھرنے میں مصروف ہو گئے اور ابھی تک یہی حال ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ دنیا کے سامنے بھی ذلیل ہو رہے ہیں لیکن سمجھتے نہیں اور اس آخرت پر بھی نظر نہیں کر رہے جس کے عذاب سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے جو سخت اور ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔بہر حال اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا کی دولت چاہے وہ افراد سے تعلق رکھنے والی ہے یا بڑے بڑے بزنس مین یا بزنس کی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والی ہے یا اس سے حکومتوں کا تعلق ہے۔اس کا غلط استعمال اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں لاتا ہے۔چاہے تو وہ اس دنیا میں اور اگلے جہان میں دونوں جگہ عذاب دے۔چاہے تو لوگ اس دنیا میں عارضی فائدہ اٹھالیتے ہیں اور وہ اگلے جہان میں عذاب دے۔پس بڑے خوف کا مقام ہے جو ہر عقلمند انسان کو ایک حقیقی مسلمان کو، خاص طور پر اس کو جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے اور صرف ظاہری طور پر ہی نہیں بلکہ عبادتوں اور اللہ تعالیٰ کے