خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 201
خطبات مسرور جلد 15 201 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 کرتے ہیں ہماری سوچ یقیناً بہت بلند ہونی چاہئے۔ہم جو احمدی کہلاتے ہیں حقیقی احمدی اُسی وقت بن سکتے ہیں جب ہم عارضی اور دنیاوی خواہشات اور لذات کو اپنا مقصد نہ بنائیں بلکہ دنیا جو آجکل ان لذات میں گرفتار ہے اور قدم قدم پر شیطان نے اپنے ایسے اڈے بنائے ہوئے ہیں جو ہر شخص کو جو اس دنیا میں رہتا ہے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اس سے پوری کوشش کر کے ہمیں بچنا چاہئے۔ہمارا مقصد دنیاوی دولت کے حصول کے لئے اور دنیاوی لذات سے فائدہ اٹھانا کبھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان چیزوں کا انجام اچھا نہیں۔اللہ تعالیٰ ان دنیاوی چیزوں کی مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے یہ پھلنے پھولنے والی فصل کی طرح ہیں مگر آخر کو سوکھ کر چورا ہو جاتی ہیں اور تیز ہوائیں اس کو اڑا کر لے جاتی ہیں۔اسی طرح دنیا داروں کا انجام ہو تا ہے۔نہ ان کے اموال کی کثرت، ان کے مال و دولت ان کے کام آتے ہیں۔نہ ان کی اولادیں ان کے کام آتی ہیں۔بعض تو اس دنیا میں ہی اپنے مال و اولاد سے محروم ہو جاتے ہیں اور اگر کسی کا ظاہری انجام دنیاوی لحاظ سے بہتر لگتا بھی ہے تو آخرت میں جو اُن کا حساب کتاب ہونا ہے وہ صرف دنیاوی لہو و لعب میں پڑنے کی وجہ سے اور خدا تعالیٰ اور دین کا خانہ خالی چھوڑنے اور خالی ہونے کی وجہ سے اور اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دینے کی وجہ سے انہیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ہاں بعض کی بعض نیکیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ کر ان سے مغفرت کا سلوک فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔اس کے تحت بعض لوگ اپنی بعض نیکیوں کی وجہ سے اس کی رضا، رضائے الہی حاصل کرنے والے بن جاتے ہیں۔لیکن یاد رکھنا چاہئے ، اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم یہ یاد رکھو کہ اس زندگی کو سب کچھ نہ سمجھو۔اصل زندگی مرنے کے بعد کی زندگی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے، انجام بخیر کے لئے اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کے حکموں پر چلناضروری ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے، اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلے تو نہ صرف انجام بخیر ہوتا ہے بلکہ یہ دنیا بھی اسے حاصل ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ تم اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی دنیاوی نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ لیکن اللہ تعالیٰ یہ ضرور فرماتا ہے کہ ان دنیاوی چیزوں کے حصول میں اتنا نہ ڈوب جاؤ کہ تمہیں دینی فرائض اور اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی کی طرف توجہ ہی نہ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ "جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں۔اس سے یہ مراد ہے کہ وہ دنیا کو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہر اتے۔" صرف دنیا ہی ان کے مد نظر نہیں ہوتی۔اور جب یہ نہیں ہو تا تو فرمایا کہ " اور دنیا ان کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے " اور پھر فرماتے ہیں۔"جو لوگ بر خلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں خواہ وہ دنیا کو کسی قدر بھی حاصل کر لیں مگر آخر ذلیل ہوتے ہیں۔" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 317)