خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xxii
xiv خلاصہ خطبات خطبات مسرور جلد 15 ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے چینل بھی شامل ہو گئے ہیں، تو یہ پیغام سن کر ان کے دل اللہ تعالیٰ کھولتا ہے۔بعض ایسے ہیں جو جماعت کے مخالفین کی مخالفت اور ان کے انجام کو دیکھ کر احمدیت قبول کر لیتے ہیں۔بعض کو اللہ تعالٰی نشان دکھاتا ہے۔خوابوں کے ذریعہ اللہ تعالی کی طرف سے احمدیت کی صداقت کی طرف رہنمائی کے مختلف واقعات کا ایمان افروز تذکرہ۔۔مکر مہ خورشید رقیہ صاحبہ اہلیہ مکرم منظور احمد صاحب گھنو کے مرحوم درویش قادیان) اور مکرم ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نیو جرسی امریکہ کا ذکر خیر۔بمقام: بیت الفتوح - لندن خطبہ:38 صفحہ:460-449 مورخہ 22 ستمبر خلاصہ : دنیا میں مجلسوں کی بہت سی قسمیں ہیں یا مختلف مجالس کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں۔مجلس کے جو بھی پروگرام ہوں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو۔ان میں لغویات سے پر ہیز ہو۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جو مجالس کے بارے میں ہدایت فرمائی ہے وہ یہی ہے کہ سرکشی اور بغاوت سے پاک، گناہوں سے پاک، رسول کی نافرمانی سے بچنے والی اور تقویٰ پر چلنے والی مجالس مومنوں کی ہونی چاہئیں۔لیکن افسوس کہ آجکل مسلمانوں کی اکثر مجالس اس کے بالکل خلاف ہیں دنیاوی مشوروں کی مجالس میں ایک مجلس یو این او (UNO) کی بھی ہے۔ابھی گزشتہ دنوں ہی اس کا ایک اجلاس ہوا۔امریکہ کے صدر کی تقریر تھی۔اس پر یہاں کے جو مغربی مضمون نگار ہیں، تجزیہ نگار ہیں انہوں نے بھی لکھا ہے کہ اس تقریر سے بجائے امن کے فساد اور فتنہ پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ہمیں اپنی حالتوں کا بھی جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔ہمیشہ یادر کھنا چاہئے کہ شیطان کو کبھی برداشت نہیں ہو گا کہ وہ جماعت کو ترقی کرتا ہوا دیکھ سکے۔شیطان نے اپنی فطرت کے مطابق ہمارے اندر بھی بے چینی پیدا کرنے اور پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہنا ہے۔پس وہ لوگ جو بعض دفعہ اکٹھے ہو کر بیٹھتے ہیں اور اپنے مقامی حلقے یا شہر کے نظام جماعت یا ملک کے نظام جماعت کے متعلق باتیں کرتے ہیں وہ لوگ اصل میں بعض دفعہ بلکہ حقیقت میں شیطان کے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔شیطان کا کام کیونکہ ہمدرد بن کر وار کرنا ہے اس لئے ایسی مجلسوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو حقیقت میں جماعتی نظام کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ جماعت کے درد کو محسوس کرنے کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فتنہ پیدا کرنے والا صحیح کہ رہا ہے۔وہ اسے فتنہ پیدا کرنے والا تو نہیں سمجھتے لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ اظہار خیال کرنے والا اور ہمدردی کے رنگ میں بات کرنے والا صحیح کہ رہا ہے اور اصلاح کی ضرورت ہے۔حالانکہ اگر اصلاح کی ضرورت ہے تو ملکی بالا نظام تک اور خلیفہ وقت تک بات پہنچائی جانی چاہئے اور اس کے بعد پھر ادھر اُدھر مجلسیں لگا کر باتیں کرنا اور ایسے انداز میں باتیں کرنا جیسے بڑے راز کی باتیں کی جارہی ہیں، بڑی اہم باتیں کی جارہی ہیں اور جماعت کا بڑا درد رکھتے ہوئے باتیں کی جارہی ہیں۔یہ بالکل غلط طریقہ کار ہے اور یہ گناہ اور سرکشی اور رسول کی نافرمانی اور تقویٰ سے دوری کی علامتیں ہیں۔۔پس ہر احمدی کو اس سلسلہ میں ہوشیار رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو ہمیشہ ہر اندرونی اور بیرونی فتنہ سے بچائے اور ہمیشہ نیکی اور تقویٰ کی مجلس میں بیٹھنے اور اس کا حصہ بننے کی توفیق دے۔مجلس کی مختلف قسموں اور حالتوں کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت اہم اور زریں ارشادات کے حوالہ سے افراد جماعت کو نصائح۔آج یہاں لجنہ اماءاللہ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔لجنہ کو بھی یادر کھنا چاہئے کہ ان کے پروگراموں کا زیادہ حصہ دینی اور علمی مجالس ہونا چاہئے۔اور شامل ہونے والی عور تیں بھی یادر کھیں کہ وہ کسی میلے میں شامل ہونے کے لئے نہیں آئیں۔مکرم بلال عبد السلام صاحب آف فلاڈلفی (امریکہ ) کا ذکر خیر۔خطبہ: 39 صفحہ:475-461 مورخہ 29 ستمبر بمقام: بیت الفتوح لندن خلاصہ: آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس انصار الله یو کے کا سالانہ اجتماع شروع ہو رہا ہے۔اس حوالے سے میں انصار کو ایک انتہائی اہم اور بنیادی چیز کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں اور وہ ہے نماز۔انصار اللہ کو خاص طور پر سب سے زیادہ اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ