خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 200
خطبات مسرور جلد 15 200 18 عه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017ء بمطابق 05 ہجرت 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَ لَهُوَ وَزِينَةٌ وَ تَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ 60 (الحديد:21) وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْبِ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ اس کا ترجمہ ہے کہ اے لوگو! جان لو کہ دنیا کی زندگی محض ایک کھیل ہے اور دل بہلاوا ہے اور زینت حاصل کرنے اور آپس میں فخر کرنے اور ایک دوسرے پر مال اور اولاد میں بڑائی جتانے کا ذریعہ ہے۔اس کی حالت بادل سے پیدا ہونے والی کھیتی کی سی ہے جس کا اگناز میندار کو بہت پسند آتا ہے اور وہ خوب لہلہاتی ہے مگر آخر تو اس کو زر د حالت میں دیکھتا ہے پھر اس کے بعد وہ گلا ہوا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں ایسے دنیاداروں کے لئے سخت عذاب مقرر ہے اور بعض کے لئے اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضائے الہی مقرر ہے اور ورلی زندگی صرف ایک دھو کے کا فائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ اس طرف توجہ دلائی ہے بلکہ تنبیہ کی ہے کہ اس دنیا کی ظاہری زندگی اور اس کی آسانیاں، اس کی آسائشیں، اس کا مال و متاع یہ سب عارضی چیزیں ہیں اور ان کی حیثیت کھیل کود اور دل بہلاوے کے سامان سے زیادہ کچھ نہیں۔اللہ تعالیٰ سے غافل اور اپنی زندگی کے مقصد سے غافل انسان تو ان چیزوں اور ان باتوں کی طرف جھک سکتا ہے جو دنیا داری کی باتیں ہیں لیکن ایک مومن جس کے اعلیٰ مقاصد ہیں اور ہونے چاہئیں وہ ان باتوں سے بہت بلند ہے اور بلند ہو کر سوچتا ہے۔اور اعلیٰ مقاصد کو اور اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کے پیار کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہم جو اس زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آئے ہوئے مسیح موعود اور مہدی معہود کی جماعت میں شامل ہونے اور آپ کی بیعت میں آنے کا دعویٰ