خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 198 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 198

خطبات مسرور جلد 15 198 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 تو یہ چند حوالے میں نے پیش کئے ہیں ورنہ تو اس تقریب پر بھی تقریباً چھ سو سے اوپر لوگ آئے ہوئے تھے اور سب کے بڑے اچھے تاثرات تھے۔اس کی میڈیا کوریج بھی کافی تھی۔ایسوسی ایٹڈ پریس تھا۔بی بی سی ایشین نیٹ ورک، نیو سٹیٹس مین (New Statesman) میگزین، NHK جاپان کی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ہے۔سنڈے ٹائم۔ABC ارجنٹینا کا میڈیا ہے۔ERT ٹیلی ویژن گریس کا ہے۔365 آئس لینڈ کا ایک نیشنل نیوز پیپر ہے۔ساؤتھ ویسٹ لندن ٹیلی ویژن۔سپوتک (Sputnik) انٹر نیشنل۔اور بھی بہت سارا پریس کوئی ہمیں اکیس کے قریب تھا۔اس کے علاوہ اس میں فری لانس جر نلسٹ بھی تھے اور دوسرے ملکوں کے جو ( نمائندے) آئے ہوئے تھے ان لوگوں نے خبریں دی ہیں۔اس میں آسٹریا کا نیشنل ٹی وی تھا۔آٹھ منٹ کی انہوں نے رپورٹ دی۔پھر گریس کا نیشنل ٹی وی تھا انہوں نے نیوز رپورٹ دی۔آئس لینڈ کے نیوز پیپر میں چھپا۔انڈیا ٹوڈے( India Today) پر ٹی وی رپورٹ تھی۔پھر اٹلی نیوز پیپر نے اس کو شائع کیا۔ارجنٹینا نیشنل نیوز پیپر نے شائع کیا۔لیٹن (Latin) امیر میکن نیوز پیپر کینیڈا نے شائع کیا۔سپین کے دو اخباروں نے کیا۔اسی طرح پر نگال نے بھی شائع کیا۔اس طرح تقریباً نو ملین سے اوپر یہ پیغام بھی جو یہاں تھا باہر کے ملکوں میں منتشر ہوا تھا۔تو بڑے وسیع پیمانے پر یہاں کی پیس کا نفرنس کی پبلسٹی ہوتی ہے اور اس حوالے سے اسلام کی تعلیم کا دنیا کو پتا چلتا ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعہ سے بھی 3۔8 ملین کی کوریج ہوئی۔تقریباً دس گیارہ کے قریب باہر کے نمائندے تھے۔جس جس طرح جماعت کا پیغام پھیل رہا ہے ہماری مخالفت بھی بڑھ رہی ہے اور خاص طور پر مسلمان ممالک میں مخالفت بڑھ رہی ہے۔الجزائر میں گزشتہ چند ماہ سے خاص طور پر بہت زیادہ مخالفت ہے اور یہ بڑھتی چلی جارہی ہے۔ان کے بارے میں میں دعا کے لئے بھی کہہ چکا ہوں۔الجزائر میں 24 تاریخ کو شاید ان کا ایک سیمینار تھا۔وہاں کے وزیر اوقاف کے ایک سابق مشیر تھے انہوں نے کہا کہ جماعت احمد یہ اپنا موقف دے تو میں اس مجلس میں ، سیمینار میں صدر کو پیش کروں گا۔تو ایک تو یہ ہے کہ پہلے انہوں نے جماعت کے بارے میں جاننے کے لئے سیمینار منعقد کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے کہہ دیا بلکہ یہ فیصلہ کر لیا کہ نہیں جماعت کے بارے میں ہم نے نہیں جاننا اور جماعت کے خلاف ہی وہاں تقریریں ہوئیں اور اس کا عنوان یہ رکھ دیا " قادیانیت ایک ایسا فرقہ جو برطانوی استعمار کی پیداوار ہے۔" وہی پرانے گھسے پٹے الزام تھے جو یہ ہم پر لگاتے رہتے ہیں۔اور جو ہمارا موقف تھا وہ پڑھ کے نہ سنایا گیا بلکہ مؤقف پیش کرنے والے کو کہا گیا کہ تم تو بڑے عقلمند انسان تھے پہلے جماعت کے خلاف بولتے رہے ہو اب کیوں حق میں بول رہے ہو ؟ تو بہر حال جب ان کی پریس سے بات ہوئی جو غیر ملکی پر لیس تھا تو اس میں انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں۔جماعت احمدیہ کو تو ہم بڑا اچھا سمجھتے ہیں۔وہ تو مسلمان ہیں اس پر کوئی ظلم نہیں ہو رہا۔صرف چند وہ لوگ جو ملک کے خلاف باتیں کرتے ہیں ان کے خلاف ہم نے کارروائی کی ہے۔لیکن جب اپنا پر میں