خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 197
خطبات مسرور جلد 15 197 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 دعا کی ضرورت ہے۔بڑی طاقتیں بھی اور چھوٹے ملک بھی جنگی جنونی ہو رہے ہیں۔جو لوگ پہلے بڑے خوش فہم تھے ، ان کے لیڈر اور سیاست دان اور تجزیہ نگار عالمی جنگ کو دُور کی بات سمجھتے تھے وہ بھی اب کہنے لگ گئے ہیں کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا بلکہ جنگ کے زیادہ امکان ہیں اور پھر جنگ میں جیسا کہ امریکہ اور کوریا کا آجکل مسئلہ ہو رہا ہے۔یہ لوگ ایک دوسرے کو ایٹمی جنگ کی دھمکی دے رہے ہیں۔گوچین اب کردار ادا کر رہا ہے کہ کسی طرح ان کا مسئلہ حل ہو جائے۔اسی طرح مسلمان لیڈر بھی ظلم کر رہے ہیں اور یہاں بھی بلاک بن رہے ہیں۔جنگوں کے میدان بہر حال وسیع ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور اسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے ایٹمی جنگ کے سدباب کے لئے ایک دفعہ ہو میو پیتھک کا جو ایک نسخہ بتایا تھا اس کو بھی جماعت کو چاہئے کہ اب کم از کم چھ ہفتے کے لئے استعمال کر لے۔ایک دفعہ ایک دوائی کارسینو سین(Carcinosin) اور پھر دوسری دوائی ریڈیم برومائڈ (Radium Bromide)۔(ماخوذ از ہو میو پیتھی یعنی علاج بالمثل صفحہ 703) اس کا اعلان ہو جائے گا۔اسی طرح ایک اور تبصرہ بھی پیش کر دوں۔پرتگال کے ایک پروفیسر ڈاکٹر پولو مورئیس (Paulo Morais) تھے۔کہتے ہیں کہ "آج آپ کی باتیں سن کے ثابت ہو گیا کہ انصاف اور امن مترادف الفاظ ہیں جن کا ایک ہی مطلب ہے اور ایک کے بغیر دوسرے کا حصول ممکن نہیں۔" کہتے ہیں " چنانچہ دنیا میں انصاف کی کمی ہے۔جس کی وجہ سے امن نہیں ہے۔اور مسلمانوں کو دہشت گردی اور جنگوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ ہمیں اس کی جڑ تک پہنچنا چاہئے جو کہ دنیا میں انصاف کی کمی ہے۔مجھے خوشی ہے کہ امام جماعت نے اسلاموفوبیا پر بات کی کیونکہ لوگ اس کو نظر انداز کر رہے ہیں لیکن اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ ہمیں آگ پر پٹرول نہیں چھڑ کنا چاہئے اور ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہئے اور استہزاء نہیں کرنی چاہئے۔" اسی طرح پر تگال کی کیتھولک یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر تھے وہ کہتے ہیں کہ " مجھے جو بات پسند آئی وہ یہ تھی کہ خلیفہ کے الفاظ ثبوت پر مبنی تھے۔انہوں نے قرآن کے حوالوں کے ذریعہ دکھایا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور انہوں نے دنیاوی حوالوں سے بھی بتایا کہ ہر بری چیز کی وجہ اسلام کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔مجھے یہ بات بھی اچھی لگی کہ ہمیں آج کے ساتھ ساتھ کل پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔" پھر ایک سیاستدان تھے انہوں نے کہا کہ تعزیت کا پیغام پر خلوص تھا۔پھر ان کا یہ کہنا کہ جنگ یقینی نظر آ رہی ہے کہتے ہیں کہ میں پرامید ہوں کہ کم از کم عالمی جنگ کو ٹالا جاسکتا ہے جیسے ہم پچھلے ستر سال سے کر رہے ہیں۔تاہم میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ جب جنگ شروع ہو جائے تو اس میں شامل ہونے سے بچنا ممکن نہیں۔ہمیں عالمی تعلقات میں انصاف قائم کرنے کی ضرورت ہے۔یہ پیغام ہے جو میں لے کے جارہا ہوں۔