خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 196
خطبات مسرور جلد 15 196 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 مذہب ہے جس کو صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا اور دہشت گرد غلط طور پر اسلام کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔مجھے یہ بات بھی پسند آئی کہ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں لندن میں ہونے والے دہشت گردی کی واقعہ کی مذمت کی اور واضح کیا کہ ان حملوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے صرف سوال ہی نہیں اٹھائے بلکہ ان کا حل بھی پیش کیا۔مثال کے طور پر انہوں نے ہتھیاروں کی فروخت کا ذکر کیا اور یہ بھی ہمیں بتایا کہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرتے ہوئے ایک دوسرے کی بات سننی چاہئے۔" پھر ایک صاحب آئے ہوئے تھے کہتے ہیں کہ " آج یہ معلوم ہوا کہ گزشتہ دنوں ویسٹ منسٹر میں دہشت گردی کا جو واقعہ پیش آیا اس کی وجہ اسلام نہیں بلکہ ایک فرد کا قصور تھا جو ایک امن پسند مذہب کے پیچھے چھپتا ہے۔آج مجھ پر یہ ثابت ہو گیا کہ وہ دہشت گرد ایک پاگل آدمی تھا اور حقیقی مسلمان نہیں تھا۔پھر کہتے ہیں کہ "آپ کے خلیفہ نے انتہائی واضح طور پر بتایا کہ ہر قسم کی دہشت گردی غلط ہے اور قرآنی آیات کے ذریعہ اس بات کو ثابت کیا۔مجھے یہ بات بھی اچھی لگی جب انہوں نے کہا کہ صرف آج پر نظر نہیں رکھنی چاہئے بلکہ کل کو بھی دیکھنا چاہئے اور یہ بھی کہ ہمیں دیواریں نہیں بنانی چاہئیں جو ہمیں تقسیم کریں بلکہ پل بنانے چاہئیں۔" پھر ایک جی پی (GP) اور وہ چرچ کے لیڈر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ "خطاب جو میں نے سنا ایک راہ دکھانے والی روشنی کی طرح تھا جس نے دکھایا کہ اسلام عظیم الشان امن کا مذہب ہے۔" پھر کہتے ہیں "بات چیت کو بڑھانے کے متعلق پیغام بڑا درست تھا، بالکل درست تھا۔دشمنیاں بڑھانے کے بجائے ہمیں ایک دوسرے کے مختلف خیالات کو برداشت کرنا چاہئے اور انہوں نے بالکل ٹھیک کہا کہ آج کی دنیا میں برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔" ایک کمپنی کی ڈائریکٹر صاحبہ جو ایک خاتون تھیں یہاں آئی ہوئی تھیں۔کہتی ہیں "میں ایک دفعہ آپ لوگوں کے چوتھے خلیفہ سے مل چکی ہوں۔اس لئے آپ کی جماعت کے متعلق کچھ علم ہے اور آج بھی میں ملی ہوں۔اور آج کی تقریر جو میں نے سنی اس کی ضرورت تھی کیونکہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہر چیز کا الزام اسلام اور مسلمانوں پر نہیں ڈالنا چاہئے اور یہ کہ آج کی دنیا میں بہت سے مسائل ہمارے یعنی مغربی ممالک کے خود پیدا کردہ ہیں۔ہتھیاروں کی تجارت کے متعلق بھی خلیفہ کی باتیں مجھے بہت پسند آئیں۔یہ ایک ایسی چیز ہے جہاں آکر ہمارے اخلاق ختم ہو جاتے ہیں اور بزنس کے فوائد کو ترجیح دی جاتی ہے۔" پھر کہتی ہیں " مجھے امید ہے کہ ہماری حکومت اس بات کو نوٹ کرے گی۔اور دنیا کے مستقبل کے متعلق امام جماعت احمدیہ کے الفاظ اور ان کی دعا سن کر میں بہت جذباتی ہو گئی تھی کہ ہم اپنے پیچھے ایک اچھی دنیا چھوڑ کر جائیں۔اس کے ساتھ وہ فکر مند بھی تھے کہ کہیں ہم اپنے پیچھے معذور بچوں کی دنیا نہ چھوڑ جائیں۔" یہاں جماعت کو بھی توجہ دلا دوں کہ آجکل دنیا کے حالات بہت زیادہ بگڑتے چلے جارہے ہیں اور بہت