خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 195

خطبات مسرور جلد 15 195 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 اللہ تعالیٰ کے فضل سے جر منی جماعت کا تبلیغ کا شعبہ کافی فقال ہے اور جو دوسری تنظیمیں ہیں وہ بھی سارا سال کام کرتی ہیں اور اچھا کام کر رہی ہیں اور اُن کے جو پیغام دوران سال پہنچتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملین میں پہنچ رہے ہیں۔اس کی وجہ سے وہاں مخالفت بھی ہو رہی ہے اور خاص طور پر ایسٹ جرمنی میں بڑھ رہی ہے۔لیکن ہم نے تو اس کے باوجود اپنا پیغام پہنچانا ہے۔کام جاری رکھنا ہے۔انشاء اللہ تعالی۔میں جب دورے پر جاتا ہوں تو جس ملک میں جاؤں اس ملک کے کچھ حالات بیان کر دیتا ہوں لیکن یہاں یو کے (UK) میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام ہو رہا ہے اور یہاں کیو نکہ خاص طور پر کوئی دورہ نہیں ہو تا اس لئے بیان بھی نہیں کیا جاتا۔اس لئے شاید بعضوں کو خیال ہو کہ یہاں کام نہیں ہو تا جبکہ یہاں بھی وسیع پیمانے پر اسلام کی حقیقی تعلیم پھیلانے کا کام ہو رہا ہے۔مختلف تنظیمیں بھی کر رہی ہیں۔جماعت کا تبلیغ کا سیکشن بھی اللہ کے فضل سے کام کر رہا ہے اور خاص طور پر حضرت مصلح موعودؓ کی کتاب "لائف آف محمد " جو انگریزی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ہے، اس کی یو کے (UK) میں شاید سب سے زیادہ تقسیم کی گئی ہے اور لوگوں تک یہ پہنچی ہے۔جس میں انصار اللہ نے بڑا کام کیا ہے۔اسی طرح دوسری کتب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں بڑے وسیع پیمانے پر پھیلائی گئی ہیں اور جماعت کا بڑا تعارف ہوا ہے بلکہ یہاں کے جو مختلف جماعتی مرکزی فنکشنز ہیں ان کے ذریعہ سے دنیا میں بھی اسلام کا تعارف ہوتا ہے۔اس لئے یہاں کے احمدی، یوکے (UK) کے احمدی بیشک باقی دنیا کے پروگراموں کو یا ترقیات کو رشک کی نگاہ سے دیکھیں لیکن یہ خیال نہ کریں کہ یہاں کوئی کام نہیں ہو رہا۔بعض جو ان پروگراموں میں اتنے زیادہ شامل نہیں ہوتے ان کا خیال ہوتا ہے کہ شاید یہاں ہم بہت پیچھے ہیں۔نہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں بھی اچھا کام ہو رہا ہے۔مثلاً یہ پیس کا نفرنس جو پچھلے دنوں پچھلے مہینے مارچ میں ہوئی ہے اس میں بھی بڑے وسیع پیمانے پر نہ صرف یو کے (UK) میں بلکہ دنیا میں بھی اسلام کا پیغام پہنچا ہے۔یہاں میں سمجھتا ہوں کہ ان کے بھی بعض تا ثر بتا دینے چاہئیں کیونکہ اس کا ذکر کبھی نہیں کیا گیا۔ایک چرچ کی وارڈن تھیں وہ یہاں پیس سمپوزیم میں آئی ہوئی تھیں۔کہتی ہیں" بہت دلچسپ اور زبر دست پیغام تھا۔اتحاد کا پیغام تھا جس کی آج کے معاشرے میں ضرورت ہے۔مجھے یہ بات بھی بہت پسند آئی جو امام جماعت نے قرآن کریم کی ایک آیت پیش کر کے بیان کی کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو آپس کی مشترک باتوں پر اتفاق کرنا چاہئے۔یہ ایسی چیز ہے جس پر عمل ممکن ہے اور اس میں غیر مذہبی لوگوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔مجھے آج اسلام اور عیسائیت میں مشترک باتوں کا علم ہوا ہے۔عبادت کا یہ مفہوم بھی مجھے بہت پسند آیا کہ پانچ وقت عبادت ضروری ہے لیکن اگر ساتھ مخلوق کی خدمت نہیں تو عبادتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔" پھر ایک نرس فیونہ (Fiona) صاحبہ تھیں۔وہ کہتی ہیں کہ "امام جماعت نے دکھایا کہ اسلام ایک ایسا