خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 193

خطبات مسرور جلد 15 193 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 ایک مہمان مسز جولیا (Julia) کہتی ہیں: " بہت اچھے انداز میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں تقریر کا یہ نکتہ بھی مجھے بہت اچھا لگا کہ اگر بندوں کے حقوق ادا نہ کئے جائیں تو خدا کی عبادت کے کیا معنی ہیں۔" کہتی ہیں کہ "میرا یہاں آنے سے پہلے یہی خیال تھا کہ اسلام بنیاد پرست انتہا پسندی کی تعلیم دیتا ہو گا لیکن آج کی تقریب نے میرے ذہن کو اسلام کے بارے میں منفی فکر سے پاک کر دیا ہے اور میں اسلام کی امن اور محبت کی تعلیم سے بہترین رنگ میں آگاہ ہوئی ہوں۔" پھر ایک خاتون کہتی ہیں کہ " آج کے تاریک دور میں یہ پیغام آسمان پر ایک شمع کی حیثیت ر د رکھتا ہے۔انسانیت کے بارے میں جب آپ نے بات کی تو میری آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے۔" پھر مار برگ سے ہی ایک صاحب کہتے ہیں کہ "خطاب کے اس حصہ سے میں بہت متاثر ہوا ہوں جس میں اسلام کی مذہبی رواداری کی تعلیم بیان ہوئی ہے۔میں اور کسی ایسے مذہب کو نہیں جانتا جس کی ایسی تعلیم ہو۔دوسرے مذاہب جو ہیں ان میں سے ہر ایک اپنے مذہب تک ہی محدود ہے اور دوسرے مذاہب سے تعلق پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں۔" پھر مار برگ شہر کی ایک سرکاری ملازم تھیں۔کہتی ہیں کہ بطور عیسائی ان کے لئے ہمسائے کے حقوق جو اسلام کی تعلیم دیتی ہے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔پھر میئر کے دفتر کے ایک سٹاف نے کہا کہ "جو باتیں سننے کے لئے میں آئی تھی خواہش تھی کہ یہ باتیں ہوں وہ سب آج بیان ہو گئیں۔" ایک بڑی عمر کے مہمان جو میرے وہاں پہنچنے سے پہلے کہہ رہے تھے کہ میری ساڑھے چھ بجے appointment ہے تو میں چلا جاؤں گا اور جب پروگرام شروع ہوا تو ہیڈ فون لگا کے سنتے رہے۔پھر میری تقریر کے دوران ہی کہنے لگے۔وقت ہو گیا اب میں جانے لگا ہوں اور ہیڈ فون اتار کر اٹھنے لگے۔پھر خیال آیا تو دوبارہ بیٹھ گئے اور سننا شروع کر دیا اور پوری تقریر سن کر گئے۔تو بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے بلکہ اکثر یہی ہے کہ ہم تو تھوڑی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ زبر دستی بعض لوگوں کو پیغام سنانا چاہتا ہے اور سنواتا ہے۔اور وہاں بہت سارے ایسے لوگ تھے۔اس کی چند ایک مثالیں میں پیش کرتا ہوں۔ملک فن لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اپنے نو سالہ بیٹے کے ہمراہ اس تقریب میں شامل ہوئیں۔کہنے لگیں کہ "اپنے چھوٹے بیٹے کو ساتھ لے کر آئی ہوں۔میری دلی خواہش ہے کہ اس کے کان میں آپ لوگوں کی بھی آواز پڑے اور آپ کی پیش کر دہ تعلیمات سے کچھ سیکھ سکے اور آپ لوگوں جیسا خد اکانیک وجود بن سکے۔" پھر