خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 192

خطبات مسرور جلد 15 192 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 اور کہنے لگے کہ " آپ لوگ تو امن کے سفیر ہیں۔تمام مسلمانوں کو اس تعلیم پر عمل کرنا چاہئے۔" اور پھر یہ بھی انہوں نے کہا کہ اب میں اپنے دائرہ کار میں، جو بھی میر احلقہ ہے اس میں آپ کا یہ پیغام پھیلانے میں پوری پوری ་་ کوشش کروں گا۔" ایک سیرین دوست نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ غیر مسلم احباب یہاں آکر خطرہ پیدانہ کریں اور پھر کہنے لگے کہ "لیکن آپ نے دوسرے مسلمانوں سے بہت بہتر رنگ میں اسلامی تعلیمات پیش کی ہیں۔" اور پھر یہ کہنے لگے کہ "امام جماعت احمدیہ نے آج اصل اسلامی تعلیم پیش کی۔احمدیوں کا یہ پہلا پروگرام تھا جس میں میں شامل ہوا ہوں۔اب میں مزید معلومات حاصل کروں گا اور شاید ایک دن میں خود بھی بیعت کر کے اس جماعت میں شامل ہو جاؤں۔" کہتے ہیں " یہاں آنے سے پہلے میں نے سنا تھا کہ احمدیوں کا قرآن اور ہے لیکن آج یہ بات بھی میرے سامنے غلط ثابت ہو گئی۔" ایک مہمان کہتے ہیں کہ " ایک احمدی تقریب میں شامل ہونے کا یہ پہلا موقع ہے۔اس سے قبل جماعت کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا مگر اب میں بہت متاثر ہوں۔مساجد کا اکثر اوقات دہشت گردی سے تعلق بیان کیا جاتا ہے مگر آج معلوم ہوا ہے کہ یہ حقیقت نہیں۔میں بہت خوش ہوں کہ یہاں پہ ایک مسجد بننے والی ہے اور یہ مسجد امن کا گہوارہ ہو گی۔" ایک خاتون نے کہا کہ "پہلی دفعہ جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہو رہی ہوں۔بہت پر سکون ماحول ہے اور جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے محبت اور رواداری کے بارے میں ہے۔امن کے بارے میں ہے اور میں ان سے بہت زیادہ متاثر ہوئی ہوں۔" مار برگ ایک شہر ہے وہاں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔وہاں کی تقریب میں شامل ہونے والی ایک مہمان خاتون نے کہا کہ "ہمسایوں کے حقوق سے متعلق پیغام نے مجھے بہت متاثر کیا ہے اور ایک عیسائی کے طور پر میری خواہش ہے کہ عیسائیت بھی اس تعلیم کو اختیار کرے۔" پھر ایک اور مہمان نے کہا کہ "عورتوں کا جو مقام پیش کیا گیا ہے آپ کے خطاب میں وہ انتہائی خوبصورت مذہبی تعلیم ہے اور آپ کے ہاں مرد اور عورت کے مقام اور حقوق میں جو توازن ہے وہ مجھے بہت پسند آیا۔" لارڈ میئر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمانوں پر اتنے زیادہ غلط الزام لگائے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنے جواب میں دلائل دینے پڑ جاتے ہیں حالانکہ اگر کوئی مغربی دنیا کا بندہ یا عیسائی کوئی ظالمانہ حرکت کرے جیسے ناروے میں ایک قاتل نے عیسائیت کے نام پر قتل کئے تھے تو کوئی بھی نہیں کہتا کہ اس مذہب کا قصور ہے۔"