خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 191
خطبات مسرور جلد 15 191 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 ایک ڈاکٹر خاتون نے کہا کہ مجھے خطاب نے بڑا متاثر کیا ہے۔دل کی گہرائی تک اثر کرنے والا خطاب تھا بالخصوص محبت اور امن کا پیغام۔اگر ہم میں سے ہر ایک اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنے والا بن جائے جیسا کہ اسلامی تعلیم ہے تو دنیا کہیں زیادہ حسین ہو جائے۔" پھر ایک خاتون نے کہا کہ "ہمسایوں کے حقوق کی طرف جو توجہ دلائی ہے یہ خاص طور پر بہت اچھا لگا۔اگر ہم اس پیغام کے ایک حصہ پر بھی عمل پیراہو جائیں تو دنیا پہلے سے بہت پر امن اور خوشگوار ہو جائے۔" پولیس سے تعلق رکھنے والے ایک ترک مہمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " آج کی تقریب اور آپ کے پیغام سے بہت متاثر ہوا ہوں۔اگر آپ لوگ اسی طرح اسلام کا پیغام جگہ جگہ دیتے رہے تو عنقریب بہت کامیابی پائیں گے۔" پھر کہتا ہے " میں پولیس والا ہوں اور ایسا منظم انتظام اور کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔میں نے آپ کے انتظامات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔" ایک مہمان رون بائیم (Raunheim) کے مہمان تھے جہاں مسجد کی بنیاد رکھی گئی ہے۔کہتے ہیں " ہمیں یہاں آکر بہت اپنائیت محسوس ہوئی ہے۔مجھے عیسائیوں کے بھی بہت سے پروگراموں میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے مگر وہاں اس طرح کی اپنائیت محسوس نہیں ہوئی۔"آخر کہنے لگا کہ "عیسائی اس بارے میں آپ لوگوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔" پس ایک عیسائی کا اس بات کا اعتراف کہ عیسائیوں کو آپ سے بہت کچھ سیکھنا چاہئے اور خاص طور پر اخلاق، یہ بہت بڑی بات ہے اور ہمارے نوجوانوں کو اس بارے میں مزید اعتماد پیدا ہونا چاہئے کہ کسی بھی قسم کی شرم کی ضرورت نہیں۔اپنے آپ کو چھپانے کی ضرورت نہیں کہ ہم مسلمان ہیں بلکہ کھل کر اسلام کی حقیقی تعلیم کو دنیا کو بتانا چاہئے۔پھر وہاں رون ہائیم (Raunheim) میں جہاں مسجد کی بنیاد تھی ایک مہمان یہ کہتے ہیں کہ " خلیفہ نے موئثر انداز میں دنیا کے حالات کے بارے میں ہمیں آگاہ کیا خاص طور پر اسلام کی پر امن تعلیم کو واضح طور پر سامنے لائے۔" ایک مہمان نے کہا کہ "میں پہلی دفعہ جماعت کے پروگرام میں آیا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ جماعت نے رون ہائیم (Raunheim) میں اپنی جگہ بنالی ہے۔اب مجھے انتظار ہے کہ جلد آپ کی مسجد بن جائے اور میں اسے دیکھوں۔یا تو مخالفتیں ہوتی ہیں یا پھر یہ کہ جب پیغام پہنچتا ہے تو پھر انتظار ہے کہ جلدی مسجد بنے۔" ایک مہمان آئے تو ان کے امن کے حوالے سے اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بعض تحفظات تھے اور یہ بھی ان کا سوال تھا کہ آپ کا خلیفہ امن کے لئے کیا کوششیں کرتا ہے ؟ اور جب خطاب سن لیا تو کہنے لگے کہ ان سب باتوں کا جو میرے ذہن میں تھیں، خطاب میں ذکر کر دیا اور میرے سب تحفظات دور ہو گئے ہیں۔"