خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xxi
خطبات مسرور جلد 15 xiii خلاصہ خطبات کوریج کا تذکرہ۔مختلف ذرائع سے کروڑوں افراد تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچلہ اس دورے کے دوران ایک مسجد کے افتتاح کی بھی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کا بھی مہمانوں پر بہت اچھا اثر ہوا اور انہوں نے بر ملا اس بات کا اظہار کیا کہ یہ اسلام تو جرمنی میں پھیلنا چاہئے۔اس فنکشن کی بھی اچھی کوریج ہوئی۔خطبہ: 36 مورخہ : 08 ستمبر بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ:435-424 خلاصہ: مجلس شوریٰ جب کوئی بھی منصوبہ بندی کرتی ہے تو ممبران شوری کی مختلف آراء سامنے آتی ہیں اور پھر ایک رائے قائم ہوتی ہے یا ممبران کی اکثریت کی ایک رائے قائم ہوتی ہے اور پھر اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل تجویز ہو کر خلیفہ وقت کے پاس منظوری کے لئے بھجوایا جاتا ہے اور جب منظوری ہو جاتی ہے تو اس پر اپنی تمام تر صلاحیتوں اور طاقتوں کے ساتھ عمل درآمد کرنا اور کروانا ممبران مجلس شوری کی بھی ذمہ داری ہے اور ہر سطح کے جماعتی عہدیداران کی بھی ذمہ داری ہے۔تبلیغ کے کام کو بہتر کرنے یا اسے وسعت دینے کے لئے جو تجویز مجلس شوری برطانیہ میں زیر بحث آئی اور اس پر فیصلے ہوئے یاد نیا کے کسی بھی ملک میں اس پر مشورے ہوئے اور خلیفہ وقت سے منظوری کے بعد عمل درآمد کے لئے جماعتوں کو بھجوائے گئے۔اس پر عمل درآمد کرنے اور کروانے کے لئے ہر ممبر مجلس شوری اور ہر سطح کے عہدیداران کو اب بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔صرف یہ نہ سمجھیں کہ کیونکہ تبلیغ سے متعلق ایک تجویز ہے اس لئے صرف سیکرٹری تبلیغ ہی اس کا ذمہ دار ہے کہ کام کرے یا اگر کوئی تجویز کسی بھی دوسرے شعبہ سے متعلق ہے تو متعلقہ سیکرٹری ذمہ دار ہے۔سورۃ النحل آیت 126 کی نہایت پر معارف تفسیر۔اس آیت کریمہ کی روشنی میں کامیاب تبلیغ کے لئے رہنما اصولوں کا تذکرہ اور اس حوالہ سے افراد جماعت کو اہم نصائح۔خطبہ: 37 مورخہ : 15 ستمبر بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ :448-436 خلاصہ: آجکل مغربی پر لیں اور میڈیا یہ سوال کرتا ہے کہ تم اسلام کی امن پسند تعلیم کی باتیں کرتے ہو لیکن مسلمانوں کی اکثریت یہ باتیں نہیں کرتی اور نہ ہی وہ تمہیں مسلمان سمجھتی ہے۔احمدیوں کی تعداد بھی دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑی ہے۔جب یہ صور تحال ہے تو پھر احمدی کس طرح اسلام کی حقیقی تعلیم پر چلنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر تم کہتے ہو کہ یہی اسلام ہے تو باقی مسلمانوں کو تم کس طرح اس تعلیم پر چلنے کے لئے قائل کرو گے۔ہمارا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ہم اسلام کی جس تعلیم کی بات کرتے ہیں اسے قرآن کریم سے ، حدیث سے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت کرتے ہیں۔ہماری کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں کہ غیروں کو متاثر کرنے کے لئے ، ان کے اعتراضات دور کرنے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہر گز شدت پسندی کی تعلیم نہیں ہے یا کوئی آجکل کے حالات دیکھ کر ہم نے اپنا یہ موقف اختیار نہیں کیا ہوا۔ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہمیشہ سے ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تعلیم ہے۔ہمارا کام تبلیغ کا کام ہے۔مشنری کام ہے سو یہ ہم کر رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔مسلمانوں میں سے بھی یہ لوگ اکثریت میں ہم میں شامل ہو رہے ہیں اور دوسرے مذاہب میں سے بھی لوگ ہم میں شامل ہوتے چلے جارہے ہیں اور انشاء اللہ یہی اقلیت ایک دن اکثریت میں بدل جائے گی۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اس کے نمونے ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ہر سال لاکھوں کی تعداد میں جو لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت مسلمانوں میں سے ہی ہے۔بعض کو پہلے تعارف ہوتا ہے اور پھر وہ استخارے کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے جماعت میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔بعض تبلیغ سنتے ہیں جس میں اب مبلغین، معلمین یا داعیان کے علاوہ ہمارے