خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 190
خطبات مسرور جلد 15 190 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 کرتے ہوئے کہا کہ " یہ بہت ہی حسین پیغام ہے جو پہنچایا جا رہا ہے۔میری یہ تمنا ہے کہ آپ کا یہ پیغام اسلامی ممالک کے اکثر لوگوں تک پہنچے۔اس سے زیادہ امن قائم ہو گا۔"کاش کہ مسلمان لوگ بھی، مسلمان ممالک بھی اس بات کو سمجھنے والے ہوں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ذریعہ جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہونی ہے اس میں اس کے ساتھ شامل ہو کر ان کے ممد و معاون بنیں نہ کہ روکیں کھڑی کریں اور مخالفتیں اور دشمنیاں پیدا کریں۔ایک جرمن سکول ٹیچر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "میں اپنے سکول کے بچوں کو اسلام کے حوالے سے ان کے سوالات کے جوابات نہیں دے سکتی تھی کیونکہ میڈیا میں جو کچھ آتا تھا وہ اسلام کے شدید خلاف ہو تا تھا۔آج اس پروگرام میں امام جماعت احمدیہ کے خطاب سے مجھے اتنازیادہ مواد مل گیا ہے کہ میں اپنے طلباء کو اب اسلام کی حقیقی تعلیم سے آگاہ کر سکتی ہوں۔" پھر ایک خاتون نے کہا کہ " آپ کے خلیفہ کی باتیں سن کر میرے دل پر گہرا اثر ہوا ہے۔میں نہیں جانتی تھی کہ اسلام کی تعلیم اتنی حسین اور خوبصورت ہے۔یہ باتیں سن کر میرے دل میں سوال اٹھتا ہے کہ اتنی حسین تعلیم کے باوجود اسلام اتنابد نام کیوں ہو گیا ہے؟ میں دعا کرتی ہوں کہ آپ کا اسلام پھیلے اور سب لو گوں تک پہنچے۔" آگس برگ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کہتے ہیں کہ "امام جماعت احمدیہ نے جو کہا اگر واقعی وہ آپ کا پیغام ہے تو آپ کو بہت کامیابی حاصل ہو گی۔" بتانے والا لکھتا ہے کہ پروفیسر صاحب اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے یونیورسٹی میں نمائش لگانے کی پیشکش کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ جماعت پبلک میں زیادہ نمایاں ہو اور آپ کا پیغام ہر ایک کو پہنچے۔" ایک مہمان نے کہا کہ " ( امام جماعت احمدیہ نے) آج ہمیں وہ مضامین بتائے ہیں جن کی آج ہم سب کو بہت ضرورت ہے اور نہ صرف دینی نقطہ نگاہ سے بلکہ دنیاوی نقطہ نگاہ سے بھی مسائل کے حل بیان کئے۔"پھر (ایک مہمان ) کہنے لگے کہ یہ بات بھی بڑی درست ہے کہ اگر ہم کھل کر اور مل جل کر محبت اور رواداری سے رہیں گے تو تحفظات ختم ہو جائیں گے۔اور پھر ایک اور مہمان نے یہ کہا کہ "میں بہت متاثر ہوا ہوں کہ جہاں دنیا بھر میں اسلام کے بارے میں یہی بتایا جاتا ہے کہ وہ نفرت کی تعلیم دیتا ہے یہاں پر مسلمان اس کے بر عکس امن کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔" ایک مہمان نے کہا کہ "خطاب سے یہ بات میرے دل پر بہت گہرا اثر کر گئی ہے کہ اسلام رواداری پر کتنا زور دیتا ہے۔میرا یہ جماعت سے پہلا رابطہ تھا اور بہت اچھی اور سکون دہ نشست تھی۔لہذا اب دلچسپی بڑھ گئی ہے اور اب کو شش کروں گا کہ آپ کی مسجد کا بھی چکر لگاؤں اور انٹرنیٹ پر بھی آپ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کروں۔"