خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 189
خطبات مسرور جلد 15 189 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 ذریعہ مجھے حقیقی اسلام کا تعارف حاصل ہو ا جو ٹی وی میں نفرت اور تشد دوالے اسلام کے بالکل بر عکس ہے اور یہاں سے مجھے امن اور محبت ملی ہے اور صرف یہ نہیں کہ لفظا امن اور محبت ملی ہے بلکہ عملی طور پر بھی یہاں ایسے انسان ملے ہیں جو نفرت نہیں چاہتے۔پس ہر احمدی کا جو ذاتی فعل اور عمل ہے وہ بھی ایک خاموش تبلیغ کر رہا ہوتا ہے۔پھر ایک مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ " آج تک میں سوچتا تھا کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں۔مختلف مذاہب نے مختلف راستے دکھائے ہیں مگر آج یہاں آکر معلوم ہوا ہے کہ مذہب نے تو بڑے مشتر کہ راستے بتائے ہیں اور امام جماعت احمدیہ نے اس بات کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔" کہنے لگا " مجھے یہ بات پسند آئی کہ انہوں نے بڑے واضح طور پر باقی تشدد پسند مسلمانوں اور داعش وغیرہ سے دوری کا اظہار کیا اور ہمیں بتایا کہ ان کا اسلامی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں اور حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالی کے نام پر جو افسوسناک اعمال دنیا میں ہو رہے ہیں اس میں آپ لوگوں کا کوئی قصور نہیں بلکہ ان کا ہے جو اس تعلیم کو غلط بیان کرتے ہیں۔" پھر کہنے لگے کہ یہ ہم سب کا کام ہے کہ محبت اور اخوت سے اس فتنے کے خلاف کھڑے ہوں۔" کہنے لگے " مجھے آپ کی یہ بات بھی بڑی پسند آئی کہ کسی انسان کا خدا پر ایمان نہیں ہو سکتا اگر وہ قتل و غارت کرے کیونکہ ایک لحاظ سے کسی معصوم کو قتل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا پر ایمان کو بھی قتل کیا جارہا ہے۔" ہمارے سلجھے ہوئے احمدی بچے بھی کس طرح ماحول پر اپنا اثر ڈال رہے ہوتے ہیں۔اس کا اظہار بھی ہمیں نظر آتا ہے۔چنانچہ ایک مہمان خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔میرے بچوں کی احمدی بچوں سے دوستی ہے۔اور جب سے ان کی احمدی بچوں سے دوستی ہے میں نے ان میں ایک مثبت اور اچھی تبدیلی دیکھی ہے۔اس وجہ سے میں جانا چاہتی تھی کہ آپ کی تعلیم کیا ہے۔آج یہاں آنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میرے بچے اچھے دوستوں کے ساتھ ہیں اور محفوظ ہیں۔" پس یہ خاموش تبلیغ جو بچوں کی وجہ سے ہو رہی ہے یہ احمدی والدین پر مزید ذمہ داری ڈال رہی ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کا معیار بڑھاتے رہیں اور ان کے لئے دعائیں بھی کریں تا کہ ہمیشہ احمدی بچے دوسروں پر نیک اثر ڈالنے والے ہوں اور ماحول کی برائیوں سے بچتے رہیں۔یہی نیک اثرات جو ہیں آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ حقیقی اسلام کے پیغام کو پھیلانے میں کردار ادا کریں گے۔وہی بچے جب ان بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پروان چڑھیں گے اور اگر یہ بچے اپنی حالتوں کو اسلام کی تعلیم کے مطابق ڈھالے رکھیں گے تو انشاء اللہ تعالی انہی بچوں میں سے جو غیر مسلم بچے ہیں بہت سارے احمدیت میں شامل ہونے والے ہوں گے۔اسی طرح Augsburg ایک دوسر ا شہر ہے جہاں مسجد کا افتتاح ہوا۔بڑا شہر ہونے کی وجہ سے یہاں سے بہت پڑھے لکھے لوگ بھی آئے ہوئے تھے۔سیاستدان بھی آئے ہوئے تھے۔ایک مہمان نے اپنے تاثرات بیان