خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 188
خطبات مسرور جلد 15 188 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں عطا فرمائی اور یہی وہ نسخہ ہے جو دنیا میں امن وسلامتی پھیلانے کے لئے ضروری ہے اور یہی وہ بات ہے جو دنیا میں صلح کی بنیاد ڈال سکتی ہے اور یہی پیغام ہے جس کو جماعت احمدیہ کے افراد دنیا کے ہر کونے میں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور کوشش کرنی چاہئے۔پس اگر بعض لوگوں کے فعل یا ان کی حرکتیں اسلام کے نام پر دنیا میں فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوشش کرنے والی ہیں تو یہ اس تعلیم کی وجہ سے نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دی ہے بلکہ اس تعلیم سے دور ہونے کی وجہ سے ہے اور اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرستادے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کونہ ماننے کی وجہ سے ہے۔پس ہم جب اس تعلیم کی روشنی میں دنیا کو امن، بھائی چارے صلح اور آشتی کا راستہ دکھاتے ہیں تو بے اختیار اکثر شریف الطبع غیر مسلموں کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم تو بڑی خوبصورت تعلیم ہے۔چنانچہ اس بات کا اظہار میرے جرمنی کے اس دورے کے دوران بھی مختلف فنکشنز میں ہوا جو مسجدوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد کے موقع پر تھا۔ایک شہر والڈ مشٹ (Waldshut) ہے وہاں مسجد تعمیر ہوئی ہے وہاں ایک مسجد کی افتتاحی تقریب میں ایک دوسرے شہر باسل (Basel) سے آئے ہوئے ایک ڈاکٹر صاحب تھے۔وہ کہنے لگے کہ میری ساری زندگی یہ جستجو رہی کہ مجھے امن پسند مسلمان کہیں مل جائیں۔آج آپ لوگوں نے میری اس خواہش کو پورا کر دیا۔میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت محسوس کر رہا ہوں کہ آج مجھے یہ لوگ مل گئے ہیں۔پھر وہاں اٹلی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بھی آئی ہوئی تھیں۔اپنے دوست کے ساتھ پروگرام میں شامل ہوئیں۔اس نے بتایا کہ میرا دوست اس پروگرام میں شامل ہونے سے گھبر ارہا تھا کیونکہ اسلام کے بارے میں اس کے منفی جذبات تھے لیکن پروگرام میں شامل ہونے اور امام جماعت احمدیہ کا خطاب سننے کے بعد اس کا اسلام کے بارے میں نظر یہ بالکل بدل گیا یہاں تک کہ اس نے فوراً اپنے موبائل سے اپنے کسی دوسرے مسلمان دوست کو میسج کیا کہ آج مجھے پتا لگا ہے کہ تمہارا مذ ہب کتنا خو بصورت ہے۔پھر بوسنیا سے تعلق رکھنے والی تین بڑی تعلیم یافتہ خواتین اس تقریب میں شامل ہوئیں۔انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا پروگرام موجودہ مشکل حالات میں امن کے قیام کے لئے ایک شمع کی حیثیت رکھتا ہے اور امام جماعت احمدیہ کا جو خطاب تھا اس میں آپ نے محبت اور ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید کی۔پھر ایک مہمان نے کہا: " یہاں آپ کی محفل سے مجھے بھی کچھ برکتوں کو سمیٹنے کا موقع ملا اور یہاں آنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔اگر آج میں یہاں نہ آتا تو یقیناً بہت بڑی چیز سے محروم رہ جاتا۔جماعت احمدیہ کے