خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 187

خطبات مسرور جلد 15 187 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اپریل 2018 رد عمل تو ان کی تعلیم کے مطابق ہے جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی کہ اسلام کی امن اور سلامتی کی تعلیم کو پھیلاؤ۔چنانچہ اسی تعلیم کی روشنی میں ہم دنیا میں ہر جگہ کام کر رہے ہیں۔ہاں شدت پسند گروہوں کے عمل اور ان مغربی ممالک میں بھی، غیر مسلم ممالک میں بھی دہشت گرد حملوں کی وجہ سے یہاں اسلام کی تعلیم کے متعلق جو تحفظات پیدا ہو چکے ہیں ان کو دور کرنے کے لئے ہمیں زیادہ محنت کرنی پڑے گی اور اس کے لئے ہم کوشش کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا کہ ہر قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی اور ظلم اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔آپ علیہ السلام نے ہمیں بتایا کہ "جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے تمام ملکوں کے راستباز یہ گواہی دیتے آئے ہیں کہ خدا کے اخلاق کا پیرو ہونا انسانی بقاء کے لئے ایک آبِ حیات ہے۔اللہ تعالیٰ کے جو اخلاق ہیں، اللہ تعالیٰ کی جو صفات ہیں وہ اختیار کرو تبھی انسانی زندگی کی بقاء ہے اور فرمایا کہ " اور انسانوں کی جسمانی اور روحانی زندگی اسی امر سے وابستہ ہے کہ وہ خدا کے تمام مقدس اخلاق کی پیروی کرے جو سلامتی کا چشمہ ہیں۔" پس اللہ تعالیٰ جو سلامتی کا چشمہ ہے وہ ایک مسلمان سے یہی چاہتا ہے اور یہی قرآن کریم کا حکم ہے کہ اس کی صفات کو اپنا یا جائے، اس کے اخلاق کو اپنا یا جائے۔آپ فرماتے ہیں کہ " خدا نے قرآن شریف کو پہلے اسی آیت سے شروع کیا ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الفاتحہ :2 ) یعنی تمام کامل اور پاک صفات خدا سے خاص ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے۔فرمایا: " عالم کے لفظ میں تمام مختلف قو میں اور مختلف زمانے اور مختلف ملک داخل ہیں۔" (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 440) پھر آپ فرماتے ہیں کہ "سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیضوں کا وہی سر چشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اسی سے ہے اور اسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔" (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 442) یہ اللہ تعالیٰ کی صفت رب العالمین کی تفصیل اور تشریح ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " پس جبکہ ہمارے خدا کے یہ اخلاق ہیں تو ہمیں مناسب ہے کہ ہم بھی انہیں اخلاق کی پیروی کریں۔" پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 443) پس یہی صفات ، یہی اخلاق ایک حقیقی مسلمان کو اپنانے چاہئیں۔پس یہ ہے وہ علم و معرفت جو قرآن کریم کی