خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 184

خطبات مسرور جلد 15 184 فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 اگر ایک حصہ شیطان کا ہے اور ایک اللہ کا تو اللہ تعالیٰ حصہ داری کو پسند نہیں کرتا۔" شراکت داری کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا۔فرمایا کہ " یہ سلسلہ اس کا اسی لئے ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف آوے۔اگر چہ خدا کی طرف آنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ایک قسم کی موت ہے مگر آخر زندگی بھی اسی میں ہے۔جو اپنے اندر سے شیطانی حصہ نکال کر پھینک دیتا ہے وہ مبارک انسان ہوتا ہے اور اس کے گھر اور نفس اور شہر سب جگہ اس کی برکت پہنچتی ہے۔لیکن اگر اس کے حصہ میں ہی تھوڑا آیا ہے تو وہ برکت نہ ہو گی۔جب تک بیعت کا اقرار عملی طور پر نہ ہو بیعت کچھ چیز نہیں ہے۔جس طرح سے ایک انسان کے آگے تم بہت سی باتیں زبان سے کرو مگر عملی طور پر کچھ بھی نہ کرو تو وہ خوش نہ ہو گا۔اسی طرح خدا کا معاملہ ہے۔وہ سب غیرت مندوں سے زیادہ غیرت مند ہے۔کیا ہو سکتا ہے کہ ایک تو تم اس کی اطاعت کرو پھر اُدھر اس کے دشمنوں کی بھی اطاعت کرو۔اس کا نام تو نفاق ہے۔انسان کو چاہئے کہ اس مر حلہ میں زید و بکر کی پروانہ کرے۔مرتے دم تک اس پر قائم رہو۔" فرمایا کہ "بدی کی دو قسمیں ہیں۔ایک خدا کے ساتھ شریک کرنا، اس کی عظمت کو نہ جاننا، اس کی عبادت اور اطاعت میں کسل کرنا۔دوسری یہ کہ اس کے بندوں پر شفقت نہ کرنا، ان کے حقوق ادانہ کرنے۔اب چاہئے کہ دونوں قسم کی خرابی نہ کرو۔خدا کی اطاعت پر قائم رہو۔جو عہد تم نے بیعت میں کیا ہے اس پر قائم رہو۔خدا کے بندوں کو تکلیف نہ دو۔قرآن کو بہت غور سے پڑھو۔اس پر عمل کرو۔ہر ایک قسم کے ٹھٹھے اور بیہودہ باتوں اور مشرکانہ مجلسوں سے بچو۔پانچوں وقت نماز کو قائم رکھو۔غرض کہ کوئی ایسا حکم الہی نہ ہو جسے تم ٹال دو۔بدن کو بھی صاف رکھو اور دل کو ہر ایک قسم کے بے جا کینے ، بغض و حسد سے پاک کرو۔یہ باتیں ہیں جو خدا تم سے چاہتا ہے۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 75 تا 76) اب یہ ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک اپنے آپ کو بیہودہ اور مشرکانہ مجلسوں سے بچایا ہوا ہے۔بہت سے ایسے ہیں جو کہیں گے کہ ہم تو ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ہم تو مشرکانہ مجلسوں میں نہیں بیٹھتے۔لیکن یاد رکھیں کوئی مجلس ہو جیسے انٹرنیٹ ہے یا ٹی وی ہے یا کوئی ایسا کام ہے اور مجلس ہے جو نمازوں اور عبادت سے غافل کر رہی ہے وہ مشرکانہ مجلس ہی ہے۔پس ہمیں اس گہرائی سے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔آپ علیہ السلام نے خاص طور پر توجہ دلائی کہ پانچ وقت نمازوں کو قائم کرو اور نمازوں کو قائم کرنا۔باجماعت نماز کی ادائیگی ہے اور با قاعدہ اور وقت پر ادا ئیگی ہے۔میں نے جائزہ لیا ہے۔مجھے تو یہاں بھی اس میں ابھی بہت کمزوری نظر آرہی ہے۔مجھے دعا کے لئے لوگ کہتے ہیں اور جب پوچھو کہ تم خود دعا کرتے ہو ؟ نمازیں پڑھتے ہو ؟ با قاعدہ پڑھ رہے ہو ؟ تو جواب نفی میں ہوتا ہے اور یہ کہ کوشش کرتے ہیں۔پس اگر دعا کے لئے کہنے والے کے اپنے اندر اپنی تکلیف کو دور کرنے کے لئے دعا کا درد پیدا