خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 183 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 183

خطبات مسرور جلد 15 183 مه فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 ہیں۔نہیں بلکہ ہر بات کا جواب ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب اور ارشادات میں ہر قسم کے سوالوں کے جواب دیئے ہوئے ہیں۔اس لئے میں نے یہ کہا تھا اور میں کہتا ہوں کہ مطالعہ کرنا چاہئے۔اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لئے ہمیں اس مطالعہ کی بہت ضرورت ہے۔فقہی مسائل ہیں یا روز مرہ کے معاملات سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں یا علمی مسائل ہیں یہ سب باتیں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لٹریچر میں مل جاتی ہیں اور خلفاء نے اس کو مزید کھول کر بیان کیا ہے۔پس اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔اسے پڑھیں اور اس پر غور کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ انہیں کیسا ہونا چاہئے اور ان کے ایمان کی کیا حالت ہونی چاہئے۔اس حوالے سے بھی میں آپ کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں تاکہ ہم میں سے ہر ایک بیعت کا حق ادا کرنے والا بن جائے۔آپ اپنی جماعت کو ایک بڑی ضروری نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: " آجکل زمانہ بہت خراب ہو رہا ہے۔قسم قسم کا شرک ، بدعت اور کئی خرابیاں پید اہو گئی ہیں۔بیعت کے وقت جو اقرار کیا جاتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے۔" غور کرنے والی بات ہے کہ یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے۔اب چاہئے کہ اس پر موت تک خوب قائم رہے ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی اور اگر قائم ہو گے تو اللہ تعالیٰ دین ودنیا میں برکت دے گا۔" فرماتے ہیں " اپنے اللہ کے منشاء کے مطابق پورا تقویٰ اختیار کرو۔زمانہ نازک ہے۔قہر الہی نمودار ہو رہا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق اپنے آپ کو بنالے گا وہ اپنی جان اور اپنی آل و اولاد پر رحم کرے گا۔" آجکل دنیا کے حالات جو بگڑ رہے ہیں اس پر غور کرتے ہوئے سب کو اللہ تعالی کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنا چاہئے۔فرمایا "دیکھو انسان روٹی کھاتا ہے۔جب تک سیری کے موافق پوری مقدار نہ کھالے تو اس کی بھوک نہیں جاتی۔اگر وہ ایک بھورہ روٹی کا کھا لیوے" ایک ٹکڑا، ذرہ توڑ کر کھالے تو کیا وہ بھوک سے نجات پائے گا؟ ہر گز نہیں۔اور اگر وہ ایک قطرہ پانی کا اپنے حلق میں ڈالے تو وہ قطرہ اسے ہر گز نہ بچا سکے گا بلکہ باوجود اس قطرے کے وہ مرے گا"۔فرمایا کہ "حفظ جان کے واسطے وہ قدر محتاط جس سے زندہ رہ سکتا ہے جب تک نہ کھالے اور نہ پیوے، نہیں بچ سکتا۔" ایک مقررہ مقدار ہے وہ زندہ رہنے کے لئے بہر حال کھانا ضروری ہے۔فرمایا کہ " یہی حال انسان کی دینداری کا ہے۔جب تک اس کی دینداری اس حد تک نہ ہو کہ سیر کی ہو ، بچ نہیں سکتا۔دینداری، تقویٰ، خدا کے احکام کی اطاعت کو اس حد تک کرنا چاہئے جیسے روٹی اور پانی کو اس حد تک کھاتے اور پیتے ہیں جس سے بھوک اور پیاس چلی جاتی ہے۔" فرمایا "خوب یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی بعض باتوں کو نہ ماننا اس کی سب باتوں کو ہی چھوڑ نا ہو تا ہے۔