خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 182
خطبات مسرور جلد 15 182 مه فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 میں ہمارے متعلق کیا خیالات پیدا ہوں گے۔انبیاء اور اللہ تعالیٰ کے فرستادے آتے ہی اس وقت ہیں جب دنیا میں دنیا داری زیادہ ہو جائے اور دین میں بگاڑ پیدا ہو نا شروع ہو جائے اور اکثریت دنیا میں پڑ کر دین کو بھول جاتی ہے اور آنے والوں کا کام ان کو صحیح راستے پر لانا ہوتا ہے۔پس ہم نے مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر دنیا کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اس لئے مخالفت بھی ہو گی۔دنیا والے اپنے دنیاوی فائدوں اور مزوں کے لئے قانون بناتے ہیں۔اگر وہ قانون خدا تعالیٰ کے حکموں کے خلاف ہیں تو ہم نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دنیا کی اصلاح کرنی ہے اور انہیں صحیح راستہ دکھانا ہے۔اس میں کسی قسم کے احساس کمتری کی یا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ کام حکمت سے کرنا ہے۔پس ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔جو غلط ہے اور جسے دین نے غلط کہا ہے اسے غلط ہم نے کہنا ہے۔یہ بات ہر احمدی کو اپنے ذہن نشین کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اپنے وقت کے لوگوں کو نبی کی مثال دے کے جو کہا تھا کہ زیادہ سوال نہیں کرنے چاہئیں اس لئے کہ اس سے کامل اطاعت ظاہر نہیں ہوتی۔اس لئے فرمایا کہ دوسرے لوگ آکر سوال کرتے ہیں تو پھر جواب پر ایمان لانے والوں کی بھی تسلی ہو جاتی ہے اور نبی کی قیافہ شناسی ایسی ہوتی ہے کہ آنے والوں کے سوالوں کے جواب ان کے ذہنوں کو سامنے رکھتے ہوئے دے دیتا ہے۔اگر بعض آنے والے مجھے یہ کہہ سکتے ہیں، میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انتہائی ادنی غلام ہوں کہ ہمارے ذہنوں میں جو سوال تھے اس تقریر نے ہمارے سوالوں کے جواب دے دیئے تو نبی کی تو قیافہ شناسی بہت زیادہ ہوتی ہے۔اس لئے ہر باریکی میں جاکر وہ جواب چاہنے والوں کو جواب دے دیتے ہیں۔اس لئے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ جو اب کوئی نہیں ہے۔جواب ہیں لیکن ماننے والوں کا یہ بھی کام ہے کہ اطاعت کے معیاروں کو بھی بلند کریں۔حضرت خلیفہ المسیح الاول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کامل اطاعت کی اور اس کا ذکر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔(ماخوذ از آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 586) آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجالس میں بیٹھتے تھے اور یہی روایات میں آتا ہے کہ سر جھکا کر بیٹھے رہتے تھے۔کبھی خود نہ بولے، نہ سوال کیا۔(ماخوذ از الفضل مورخہ 27 مارچ 1957ء صفحہ 5 جلد 11/46 نمبر 74) اور جب سوال کرنے والے آتے تھے تو ان سے آپ فائدہ اٹھایا کرتے تھے ، نوٹ کیا کرتے تھے یا مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے جو ارشادات ہوتے تھے ان کو غور سے سنتے تھے اور ان سے فائدہ اٹھاتے تھے۔یہ یاد رکھیں، پہلے بھی میں نے کہا کہ یہ بات نہیں کہ دین اسلام میں بعض سوالوں کے جواب نہیں