خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 181
خطبات مسرور جلد 15 181 فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 دے۔فرمایا: " اور اس کی بجائے وہ یہ فکر کرے کہ کیا یہ سچا ہے یا نہیں۔" یہ دیکھو اور اس بات کی فکر کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ یہ سچا ہے کہ نہیں۔آپ فرماتے ہیں " بعض امور بیشک سمجھ سے بالا تر ہوتے ہیں لیکن جو لوگ پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں وہ حسن ظن اور صبر اور استقلال سے ایک وقت کا انتظار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر اصل حقیقت کو کھول دیتا ہے۔" فرمایا کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت صحابہ سوال نہ کرتے تھے بلکہ منتظر رہتے تھے کہ کوئی آ کر سوال کرے تو فائدہ اٹھاتے تھے ورنہ خود خاموش سر تسلیم کئے ہوئے بیٹھے رہتے تھے اور جرآت سوال کرنے کی نہ کرتے تھے۔" فرمایا کہ "میرے نزدیک اصل اور اسلم طریق یہی ہے کہ ادب کرے۔جو شخص آداب النبی کو نہیں سمجھتا اور اس کو اختیار نہیں کرتا اندیشہ ہو تا ہے کہ وہ ہلاک نہ کیا جائے۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 73 تا 75) اپنوں کو بھی ساتھ نصیحت کر دی کہ بدظنیاں بھی نہیں ہونی چاہئیں۔بلا وجہ کے سوالات نہیں ہونے چاہئیں۔پہلی بات تو یہ کہ ہمیں کسی احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا۔بعض معاملات میں اگر پرانے بزرگوں اور اولیاء کی آراء ہیں تو وہ اس محکم اور عدل کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں اگر ان کے مقابلے میں کوئی اپنی رائے پیش کی ہے یا اپنا فیصلہ دیا ہے۔ان بزرگوں نے اپنے وقت میں اسلام کے لئے کام کیا اور بہت کام کیا اور ان پرانے بزرگوں نے امت کو اپنے اپنے دائرے میں سنبھالنے کی کوشش کی لیکن اب جب خاتم الخلفاء اور خاتم الاولیاء اور مجدد آخر الزمان اور حکم اور عدل آگیا تو پھر جو اس کے فیصلے ہیں اور جو اس کا علم ہے اور جو اس نے اسلام کے بارے میں بتایا ہے وہی حق ہے باقی سب غلط ہے۔اور ہم نے بیعت کے بعد اس کی تعمیل کرنی ہے۔یہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے۔اور یہی حقیقی اسلام ہے جسے دنیا اس وقت پسند کرتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا لوگ ہمیں کیوں پسند کرتے ہیں اسی لئے کہ ہم اس اسلام کو پیش کرتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں سکھایا۔اس کی چند مثالیں میں نے پیش کی ہیں۔اور بہت سی مثالیں ہیں۔جیسا کہ میں نے یہ بھی کہا تھا دوسری بات یہ بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جو لٹریچر اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چھوڑا ہے اس کو پڑھنا اور اس سے علم حاصل کرنا حقیقی اسلام کے بارے میں ہمیں بتاتا ہے۔پس جہاں خود پڑھیں وہاں دوسروں کو بھی دیں جن کے ساتھ گہر ا واسطہ ہے۔جو سعید فطرت ہیں انہیں لٹریچر دینا ضروری ہے اور روزمرہ کے مسائل اور معاملات میں انہی کے حوالے ہمیں دینے چاہئیں اور یہ ضروری ہیں۔پس ہر احمدی کو آپ علیہ السلام کے لٹریچر سے خود بھی زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہئے اور اسے آگے پھیلانا بھی چاہئے۔ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں اور نہ کرنی چاہئے کہ دنیا کیا کہے گی ؟ غیر مسلم دنیا میں یاد نیاوی لوگوں