خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page xx of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xx

xii خلاصہ خطبات خطبات مسرور جلد 15 نے ان غلط فہمیوں یا جائز نا جائز شکایتوں کو دور کر کے آپس میں پیار اور محبت سے زندگی گزارنی ہے۔اللہ تعالیٰ کے رحم اور بے جذب کرنے کے لئے ہمیں دنیا میں اپنے معاملات میں ایک دوسرے سے نرمی اور رحم کا سلوک کرنا چاہئے نہ کہ صرف سختی اور پکڑ اور صرف اپنے حق کی فکر ہو۔باہمی لین دین اور قرضوں کے حصول اور ادائیگی کے معاملات میں سچائی اور دیانت سے معاملات طے کرنے اور قضا کے فیصلوں کو تسلیم کرنے اور ضروں اور اناؤں کو چھوڑنے کی بابت قرآن مجید اور احادیث نبویہ صلی علی نام کے حوالہ سے اسلامی تعلیم کا تذکرہ اور افراد جماعت کو اہم نصائح۔بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ :394-384 خطبہ: 33 مورخه : 18 اگست خلاصہ: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تذکل بھی اختیار کرتے ہیں، صلح کے لئے ہر شرط کو قبول کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی دوسر افریق ظلم کا رویہ اپناتا ہے۔اگر حقیقت میں دوسرا فریق ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تو پھر وہ اپنا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وہ کاٹا جائے گا اور پھر آگے یہ بھی فرمایا کہ بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا پس وہ لوگ جو ضد کرتے ہیں ان کے لئے بہت بڑا انذار ہے۔بیعت کے منشاء کو پورے کئے بغیر اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حق کی ادائیگی اور صلح اور صفائی بھی ضروری ہے۔ہمدردی خلق اور صلح ایک ایسا خلق ہے جس کو اپنانے کی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار نصیحت فرمائی ہے۔پس ہر احمدی کو اس پہ بہت توجہ دینی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے ہمدردی بنی نوع انسان، صلح جوئی، اعلیٰ اخلاق کے مظاہرہ اور خدا تعالیٰ کی رضا کو فوقیت دینے وغیرہ امور سے متعلق نہایت اہم نصائح۔خطبہ:34 مورخه : 25 اگست بمقام :DM-Arena، کالسروئے۔جرمنی صفحہ : 408-395 خلاصہ: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے بیعت کی غرض وغایت اور اس کے مخالف تقاضوں کا تذکرہ اور اس حوالے سے افراد جماعت کو نہایت اہم نصائح۔جلسہ کے دنوں میں اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ ادھر ادھر پھرنے کی بجائے جلسہ کے پروگراموں میں شامل ہوں۔تمام تقریریں سنیں۔ہر تقریر کسی نہ کسی رنگ میں علمی، اعتقادی اور روحانی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔تمام شامل ہونے والے ڈیوٹی دینے والوں سے بھی مکمل تعاون کریں۔کارکنان بھی ہر جگہ جہاں بھی ڈیوٹی پر ہیں انتہائی خوش اخلاقی سے ہر ایک سے پیش آئیں۔خطبہ : 35 مورخہ : 01 ستمبر بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ :423-409 خلاصہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیائے احمدیت کو اس طرح اکٹھا اور باخبر کر دیا ہے کہ اب خلیفہ وقت کے دوروں اور جماعتی پروگراموں اور خبروں کو سننے کے لئے لمبا انتظار اور جماعتی رسائل اور اخبارات کا انتظار نہیں کرنا پڑتابلکہ ساتھ ہی ساتھ ہر خبر پہنچ رہی ہوتی ہے۔ہر پروگرام دیکھا جارہا ہوتا ہے۔بلکہ جلسوں کی کارروائی اور ماحول کے بارے میں سننے والوں کی طرف سے بعض موقعوں پر فوری تبصرے اور جذبات کے اظہار پروگراموں کے دوران ہی ہو رہے ہوتے ہیں۔انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور حمد کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت میسر فرما کر کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو ایک وحدت بنادیا ہے اور ایک لڑی میں پروئے جانے کے ظاہری نظارے کا خوبصورت سامان مہیا فرما دیا ہے۔پس اس کے لئے ہمیں جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے وہاں ایم ٹی اے کارکنان جن میں رضا کار کارکن بھی شامل ہیں اور کل وقتی بھی ان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے۔جلسہ سالانہ جرمنی کی پر لیس اور میڈیا