خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 180
خطبات مسرور جلد 15 180 ه فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 نہیں کیا اور جس نے مجھے تسلیم کیا" بیعت میں آگیا " اور پھر اعتراض رکھتا ہے وہ اور بھی بد قسمت ہے کہ دیکھ کر اندھا ہوا۔" یہ بہت بڑی اہم چیز ہے کہ مانا بھی اور پھر بعض شبہات دل میں ہوں تو پھر دیکھ کر اندھا ہو گیا اور زیادہ گنہ گار بن گیا۔فرمایا کہ " اصل بات یہ ہے کہ معاصرت بھی رتبہ کو گھٹا دیتی ہے۔" ایک ماحول میں رہتے ہیں، ساتھ ساتھ رہتے ہیں وہاں پتا نہیں لگتا کہ انسان رتبہ اور مقام پہچان سکے اس لئے آپ حضرت عیسی علیہ السلام کی مثال بیان فرماتے ہیں کہ " اس لئے حضرت مسیح کہتے ہیں کہ نبی بے عزت نہیں ہوتا مگر اپنے وطن میں۔" فرمایا کہ "اس ، معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کو اہل وطن سے کیا کیا تکلیفیں اور صدمے اٹھانے پڑے تھے۔سو یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایک سنت چلی آتی ہے ہم اس سے الگ کیونکر ہو سکتے ہیں۔" پس یہ جو بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں احمدیت پر اعتراض کرنے والے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے پر اعتراض کرنے والے کہ ان کی قوم کے علماء نے ان کو رڈ کر دیا اور احمدیوں کے خلاف فیصلہ دے دیا کہ یہ غیر مسلم ہیں۔اس میں عرب بھی شامل ہیں، دوسری قوموں کے بھی شامل ہیں۔تو یہ دلیل ان کے لئے کافی ہے کہ ہر جگہ ، ہر زمانے میں، ہر قوم میں جب نبی آیا تو اس کو اس کے لوگوں نے ہی رڈ کیا۔آپ نے فرمایا کہ " اس لئے ہم کو جو کچھ اپنے مخالفوں سے سنا پڑا یہ اسی سنت کے موافق ہے۔بلکہ نبی کی یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت جو ہے یہ آپ کی سچائی کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اور انبیاء کی یہ سنت ہے کہ اسی طرح ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ " مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُنَ (يس: 31) کہ کوئی رسول ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا استہزاء کرتے تھے۔اس کی ہنسی اڑاتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ " افسوس اگر یہ لوگ صاف نیت سے میرے پاس آتے " مخالفین کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر صاف نیت سے میرے پاس آتے تو میں ان کو وہ دکھاتا جو خدا نے مجھے دیا ہے اور وہ خدا خود ان پر اپنا فضل کرتا اور انہیں سمجھا دیتا۔مگر انہوں نے بخل اور حسد سے کام لیا۔اب میں ان کو کس طرح سمجھاؤں۔" لیکن ہم جو ماننے والے ہیں ہمارا کام ہے کہ جب ہم آگئے ، ہم نے مان لیا تو پھر اس خدا سے اپنا تعلق پیدا کریں، دنیا داری میں نہ پڑ جائیں یہ دنیا عارضی ہے۔اس لئے ہمیں اگلے جہان کی بھی فکر کرنی چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ "جب انسان سچے دل سے حق طلبی کے لئے آتا ہے تو سب فیصلے ہو جاتے ہیں۔لیکن جب بد گوئی اور شرارت مقصود ہو تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔" فرمایا کہ " حجج الکرامہ میں ابن عربی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ مسیح موعود جب آئے گا تو اسے مفتری اور جاہل ٹھہرایا جائے گا اور یہاں تک بھی کہا جاوے گا کہ وہ دین کو تغییر کرتا ہے۔اِس وقت ایسا ہی ہو رہا ہے۔اس قسم کے الزام مجھے دیئے جاتے ہیں۔ان شبہات سے انسان تب نجات پاسکتا ہے جب وہ اپنے اجتہاد کی کتاب ڈھانپ لے۔"خود نہ تو جیہیں پیش کرتا رہے۔وہ ایک طرف رکھ