خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 179

خطبات مسرور جلد 15 179 مه فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 کی تعلیم کی حقیقت ہے۔اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ دوسروں کی کتابیں پڑھ کر ، علماء کی کتابیں پڑھ کر ، فقیہوں کی کتابیں پڑھ کر، پرانے اماموں کی کتابیں پڑھ کر آپ عالم بن گئے۔عالم اس وقت تک نہیں بن سکتے جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں نہیں پڑھتے۔اللہ تعالیٰ نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس زمانے کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے تو آپ کو براہ راست علم بھی عطا فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ "جو شخص ایمان لاتا ہے اسے اپنے ایمان سے یقین اور عرفان تک ترقی کرنی چاہئے نہ یہ کہ وہ پھر ظن میں گرفتار ہو۔یاد رکھو ظن مفید نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے اِنَّ الظَّنَّ لا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ( يونس: 37) " کہ وہم اور ظن جو ہے حق کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتا۔فرمایا کہ "یقین ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بامراد کر سکتی ہے۔یقین کے بغیر کچھ نہیں ہو تا۔اگر انسان ہر بات پر بدظنی کرنے لگے تو شاید ایک دم بھی دنیا میں نہ گزار سکے۔" آپ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " وہ پانی نہ پی سکے کہ شاید اس میں زہر ملا دیا ہو۔بازار کی چیزیں نہ کھا سکے کہ ان میں ہلاک کرنے والی کوئی شئے ہو۔پھر کس طرح وہ " زندہ رہ سکتا ہے۔" فرمایا کہ " یہ ایک موٹی مثال ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " اسی طرح پر انسان روحانی امور میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔" فرمایا " اب تم خود یہ سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کہ کیا تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود، محکم عدل مانا ہے تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یارنج آتا ہے تو اپنے ایمان کا فکر کرو۔" فرمایا کہ " وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے، کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہو گا۔لیکن اگر تم نے سچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حکم ہے تو پھر اس کے حکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو۔" خاموش ہو جاؤ۔جو کہا گیا ہے اس کو مانو " اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہر و۔" فرمایا کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کافی ہے۔وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہو گا " جو مسیح موعود آئے گا وہ تمہارا امام ہو گا اور " وہ حکم عدل ہو گا۔اگر اس پر تسلی نہیں ہوئی تو پھر کب ہو گی۔" فرماتے ہیں " یہ طریق ہر گز اچھا اور مبارک نہیں ہو سکتا کہ ایمان بھی ہو اور دل کے بعض گوشوں میں بدظنیاں بھی ہوں۔میں اگر صادق نہیں ہوں تو پھر جاؤ اور صادق تلاش کرو۔اور یقیناً سمجھو کہ اس وقت اور صادق نہیں مل سکتا۔اور پھر اگر دوسرا کوئی صادق نہ ملے اور نہیں ملے گا تو پھر میں اتنا حق مانگتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو دیا ہے۔جن لوگوں نے میرا انکار کیا ہے اور جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں انہوں نے مجھے شناخت