خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 178
خطبات مسرور جلد 15 178 فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 جیسا کہ میں نے بتایا کہ مار برگ میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا وہاں بہت سے مہمانوں میں یونیورسٹی کے پروفیسر اور طلباء بھی شامل تھے ، وائس چانسلر بھی آئی ہوئی تھیں جن کے خیالات میں نے بتائے ہیں۔وہاں یو نیورسٹی کے دو مصری پروفیسر بھی آئے ہوئے تھے جو اسلامیات اور عربی پڑھاتے تھے۔میرے پوچھنے پر ایک نے بتایا کہ وہ اسلامیات میں اسلامی فلاسفی پڑھاتے ہیں۔تو میں نے انہیں کہا کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھی ہے؟ کہنے لگے نہیں۔تو میں نے انہیں کہا کہ یہ ضرور پڑھیں کیونکہ اس کے بغیر اسلامی اصول کی فلاسفی کی گہرائی کا علم ہو ہی نہیں سکتا۔چاہے جتنا مرضی آپ ادھر ادھر سے علم حاصل کرتے رہیں۔مجھے حیرت ہوئی کہ نیشنل سیکرٹری اشاعت صاحب انہیں ساتھ لائے ہوئے تھے اور یونیورسٹی میں ان میں سے ایک کے شاید سٹوڈنٹ بھی رہ چکے ہیں یا ہیں لیکن بہر حال دونوں سے واقفیت ان کی بہت گہری تھی۔لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ کیا وہ پڑھاتے ہیں، کس subject میں ان کو دلچسپی ہے انہوں نے ان کو یہ کتاب نہیں دی۔بہر حال میں نے انہیں کہا کہ فوراً انہیں یہ کتاب دینے کا انتظام کریں۔کل ان کا ایک خط بھی مجھے آگیا کہ یہ کتابیں انہوں نے ان کو بھیج دی ہیں۔ان کو عربی میں یہ کتاب بھیجنی چاہئے تھی۔اپنی زبان میں ان کو زیادہ سمجھ آئے گی۔یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کے بارے میں بہت سے عرب مجھے لکھتے ہیں کہ اس کو پڑھ کر ہمیں اسلام کی حقیقت کا صحیح پتا لگا۔کئی عیسائی بھی اور دوسرے لوگ بھی مجھے لکھتے ہیں کہ اس نے ہماری کایا پلٹ دی ہے۔مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب مرحوم جماعت کے بہت بڑے عالم بھی تھے۔بڑا گہرا علم تھا ان کا بلکہ اسلام کا بھی بڑا گہر اعلم رکھنے والے تھے۔وہ بھی یہی کہتے تھے ان کو احمدیت میں لانے میں سب سے زیادہ کر دار اس کتاب نے ادا کیا ہے۔پس جب پڑھے لکھے لوگوں سے تعارف ہو تو انہیں یہ کتاب ضرور دینی چاہئے۔ہمارے بعض یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کا یہ خیال ہے کہ شاید پرانے فقیہوں اور عالموں کو پڑھ کر یا پرانے اماموں اور اولیاء کے ذکر پڑھ کر ان کا علم بہت بڑھ گیا ہے اور ان کی علمیت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس بارے میں شاید ان کا علم بڑھ گیا ہو لیکن ان سے زیادہ علم غیر احمدی علماء کا ہے۔اس لئے صرف اس کو پڑھ کر یہ نہ سمجھیں کہ آپ عالم بن گئے۔یہ کیڑا اگر کسی کے دماغ میں ہے تو اسے نکال دینا چاہئے۔پرانے علماء اور اولیاء کو اب چھوڑیں۔اب حقیقی علم اور اسلام کی صحیح تصویر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام پڑھ کر ہی مل سکتی ہے۔یاد رکھیں جو فیصلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے ہیں وہی اصل فیصلے ہیں اور آپ کے علم کلام کی بنیاد پر جو تفسیریں جماعت میں خلفاء نے کی ہیں وہی حقیقی تفسیریں ہیں، انہیں پڑھیں اور اپنا علم بڑھائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے کے حکم اور عدل بن کر آئے تھے۔ہمیں یہ بات ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہئے۔اس لئے جو کچھ آپ نے فرمایا ہے وہی سچ ہے اور اسلام