خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 177
خطبات مسرور جلد 15 بولنے کی طاقت نہیں ہے۔177 ه فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 اب ایک عیسائی خاتون ایک مسلمان فنکشن پہ آتی ہے۔پہلے اس کو اسلام کی تعلیم کا پتا نہیں، تعارف نہیں بلکہ امیر صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کو تعارف نہیں اور تلاش کر رہے تھے ان کو کہ کہاں ہیں۔وائس چانسلر ہیں، پڑھی لکھی خاتون ہیں لیکن اس کے بعد باتیں سنیں تو اس قدر جذباتی ہیں کہ اپنے جذبات کو کنٹرول نہیں کر سک رہیں۔تو ایسی خوبصورت اسلام کی تعلیم ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں کسی بھی قسم کا کوئی احساس کمتری ہو ، کوئی کمپلیکس ہو۔ایک خاتون مس ایسٹر (Esther) کہنے لگیں کہ آج تمہارے خلیفہ نے میرے ان تمام سوالوں کے جواب دے دیئے ہیں جو یہاں میں اپنے دل میں رکھ کر لائی تھی۔کہنے لگی کہ اس بات کا خوف ہے کہ آج میں نے اتنی خوبصورت باتیں سنی ہیں اور یہ سن کر میں گھر جارہی ہوں لیکن کوئی بعید نہیں کہ کل اسلام کو بد نام کرنے والا کوئی شخص اٹھے اور اسلام کے نام پر کوئی دہشتگر د حملہ کر دے اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور پھر اس پر امن پیغام کو بھول جائیں گے۔یہ مجھے درد ہے، یہ مجھے تکلیف ہے۔تو یہ احساسات ہیں جو لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو رہے ہیں۔اسی طرح کے بیشمار تبصرے ہیں۔ہر جگہ اس طرح کے تبصرے آئے اور جیسا کہ اس خاتون نے کہا کہ لوگ پُر امن پیغام کو بھول جائیں گے اور یہ حقیقت ہے کہ اسی طرح ہوتا ہے اور میڈیا کی خاص طور پر یہ کوشش ہوتی ہے کہ اسلام کی اچھی تصویر کبھی دنیا کے سامنے پیش نہ ہو۔اس لئے ہمارا کام ہے کہ ہم اس پیغام کو جو محبت، پیار اور صلح اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والا پیغام ہے اس کو پھیلانے کی کوشش کرتے چلے جائیں۔اسلام کے نام پر ہر منفی عمل کے بعد جو یہ بعض نام نہاد مسلمان کرتے ہیں ہمارا کام ہے کہ مثبت تعلیم دنیا کے سامنے پیش کریں۔جو لوگ اور مہمان جو مختلف فنکشنز پر آئے تھے یا جن سے لوگوں کے تعلقات ہیں ان سے اب مسلسل رابطہ بھی رکھیں۔ان لوگوں پر جو اثر ہوا ہے یہ سب کیوں ہوا ہے؟ کیا وجہ ہے اس کی ؟ آخر ہم بھی وہی قرآن پڑھتے ہیں جو دوسرے مسلمان پڑھتے ہیں۔ہم بھی نمازیں اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح دوسرے مسلمان پڑھتے ہیں۔اسی شریعت کو مانتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری اور آپ کو آخری نبی مانتے ہیں۔یہ سب اثر اس لئے ہوا کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا اور جیسا کہ میں نے کہا آپ علیہ السلام نے اسلام کی حقیقت کھول کر ہمارے سامنے رکھی کہ یہ حقیقی قرآنی تعلیم ہے جسے پھیلانا ہر احمدی کا فرض ہے۔پس جہاں ہمیں اپنے اندر عملی تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہاں ہمیں آپ علیہ السلام کے لٹریچر کو پھیلانے کی بھی ضرورت ہے اور یہ ہمارا کام ہے بلکہ ہماری ذمہ داری ہے۔