خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 176
خطبات مسرور جلد 15 176 فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 دعوت کے بعد پہلے نہ آنے کا فیصلہ کیا۔لیکن پھر میرے ایک دوست جس نے جماعت کے بارے میں کچھ انٹر نیٹ پر معلومات حاصل کی تھیں اور ویڈیو بھی دیکھی تھی اس نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ بڑے پرامن ہیں اس لئے ان کے فنکشن پر چلے جاؤ کوئی حرج نہیں۔لیکن کہتے ہیں پھر بھی میں خوفزدہ تھا۔انہوں نے کہا کہ لیکن میں شکر کرتا ہوں کہ آج میں اس فنکشن میں شامل ہو گیا اور شامل ہو کر مجھے پتا چلا کہ تم لوگ زندگیاں لینے والے نہیں بلکہ زندگیاں دینے والے ہو۔انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کے کاموں کی وجہ سے دنیا کو زندگیاں دینے والے ہو۔ایک ڈاکٹر فرانز تھے کہتے ہیں کہ آج میں نے وہ اسلام دیکھا ہے جو نفرت کے ذریعہ سے نہیں بلکہ محبت کے ذریعہ سے پھیل رہا ہے۔دوسری مسجد کا جہاں افتتاح ہو وہاں بھی ایک خاتون کہنے لگیں کہ جو باتیں آج میں نے سنی ہیں کبھی کسی مسلمان لیڈر سے نہیں سنیں۔ایک خاتون کہنے لگیں کہ آج مجھے پتا چلا ہے کہ اسلام ایک پر امن اور رحم کرنے والا مذہب ہے اور مجھے پتا چلا ہے کہ اسلام ہمسایوں کے حقوق کی کتنی حفاظت کرتا ہے۔ایک سیرین مسلمان فنکشن میں شامل ہوئے۔کہنے لگے کہ آج کا دن میرے لئے بڑا جذباتی دن ہے۔یہاں آنے سے پہلے مجھے بتایا گیا تھا یا عام طور پہ یہی تصور تھا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں اور ان کا قرآن بھی مختلف ہے۔لیکن آج مجھے پتا چلا ہے کہ وہ سب جھوٹ ہے اور احمدی اسی قرآن کو پڑھتے ہیں اور عمل کرتے ہیں اور اسی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں جسے باقی مسلمان مانتے ہیں۔اور پھر مجھے ملنے کے بعد کہا کہ خلیفہ وقت کو ملنے کے بعد اب عین ممکن ہے کہ میں احمدی ہو جاؤں۔یہی خیالات یہاں جب اس جگہ پر سنگ بنیاد رکھا گیا ہے یہاں آئے ہوئے مہمانوں کے تھے اور اسی طرح کے ماربرگ میں تھے۔مار برگ یونیورسٹی کی وائس چانسلر کہنے لگی کہ اس وقت میں مکمل طور پر جذبات سے مغلوب ہوں۔جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی بات سن کر اور خاص طور پر (جو میں نے وہاں اپنے ایڈریس میں دو جنتوں کا تصور پیش کیا تھا اور اسلام کی تعلیم بتائی تھی کہ اس دنیا کی بھی جنت ہے اور اگلے جہان کی بھی جنت ہے تو کہتی ہیں) دو جنتوں کا یہ جو تصور ہے کہ اس دنیا کی جنت بھی ہے اور اگلے جہان کی جنت۔اس کی وضاحت سے میں بہت متاثر ہوئی ہوں اور یہ بھی کہ کس طرح اس دنیا کی جنت حاصل کی جاسکتی ہے جو اگلے جہان کی جنت کا پیش خیمہ بنتی ہے۔اسی طرح یہ بھی انہوں نے کہا کہ مجھے آج بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسلام کی ابتدائی تاریخ کا بھی پتا چلا ہے اور یہ بھی کہ کس طرح اسلام حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔کہنے لگی کہ اگر یہ سب کچھ دنیا سمجھ لے تو دنیا میں امن اور محبت اور بھائی چارہ قائم ہو جائے۔یہ اس قدر جذباتی ہو رہی تھیں کہ جنہوں نے ان سے بات کی ہے وہ کہتے ہیں کہ روتے ہوئے کہنے لگیں کہ اس سے زیادہ اب میں بول نہیں سکتی، میرے میں