خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 175

خطبات مسرور جلد 15 175 فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 بھی احساس ہوا کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کا جس طرح تعارف لوگوں میں ہونا چاہئے تھا اس طرح نہیں ہے۔کیونکہ جب میں ان موقعوں پر اسلام کی تعلیم کے حوالے سے باتیں کرتا ہوں یا جب بھی میں نے ان لوگوں سے باتیں کیں بہت سے لوگوں نے یہی کہا کہ اسلام کی اس حقیقی تعلیم کا ہمیں نہیں پتا تھا، ہمیں علم نہیں تھا۔سب لوگوں نے بر ملا اس بات کا اظہار کیا کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کے یہ پہلو تو ہم سے چھپے ہوئے تھے۔ہمارے ذہنوں میں تو اسلام کا وہی تصور ہے جو میڈیا ہمیں دکھاتا ہے۔یہ بھی انہوں نے اظہار کیا کہ بیشک بعض احمدی ہمارے واقف ہیں اور ان کی دعوت پر ہم یہاں آتو گئے ہیں لیکن ہمارے ذہنوں میں تحفظات تھے۔کسی کا ذاتی تعلق پیدا ہونا اور تعلق رکھنا ایک بالکل مختلف چیز ہے اور جماعتی طور پر کسی کو فنکشن میں بلانا اور لے کر آنا اور جماعت کے حوالے سے بات کرنا بالکل اور چیز بن جاتی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹھیک ہے یہ میرا دوست ہے جو انفرادی طور پر اچھا ہو گا لیکن پتا نہیں بحیثیت جماعت ان کی کیا حالت ہے اور ان لوگوں کے کیسے خیالات ہیں۔یہ بھی کہیں شدت پسند تو نہیں ہیں ؟ اس لئے ان لوگوں کے ذہنوں میں تحفظات تھے۔یہ عمومی تاثر اور ایسے تحفظات میں نے دنیا کے ہر ملک کے غیر مسلموں میں دیکھے ہیں کہ پتا نہیں اگر ہم مسلمانوں کے اس فنکشن میں گئے تو کیا ہو گا؟ شاید دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑے۔لیکن یہ بھی انہوں نے کہا کہ آپ کے فنکشن میں شامل ہو کر ہمیں پتا چلا کہ ہماری سوچیں بالکل غلط تھیں اور آپ کی باتیں سن کر ہمیں پتا چلا۔یہ مجھے انہوں نے کہا اور مختلف جگہوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ یہ باتیں سن کر ہمیں پتا لگا کہ اسلام ایک پرامن اور محبت کرنے والا مذہب ہے، محبت پھیلانے والا مذہب ہے۔اور چند لوگوں کے عملوں کو اسلام کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے۔یہاں بھی مختلف فنکشنز پر اور دنیا میں اور جگہ بھی ایسے لوگ ملتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا اور یہ اظہار کرتے ہیں، یہاں بھی ان دنوں میں بعض لوگوں نے اظہار کیا کہ آپ کی باتیں سن کر ہمارے اسلام کے متعلق صرف شبہات ہی دور نہیں ہوئے، جو شبہات یا تحفظات تھے صرف وہی دور نہیں ہوئے بلکہ اگر ہمیں کبھی کسی مذہب کی طرف آنے کی طرف توجہ پیدا ہوئی تو جماعت احمدیہ مسلمہ کی طرف ہی آئیں گے۔ہم سے اسلام کی باتیں سن کر لوگ کس طرح اپنے خیالات بدلتے ہیں اس کی چند مثالیں میں دیتا ہوں۔پہلی مسجد غالباً والڈشٹ (Waldshut) کی تھی، وہاں آئے ہوئے ایک صاحب سائمن کلاس(Klaus) کہنے لگے کہ میرا آج اسلام کے بارے میں تصور بالکل بدل گیا ہے۔جہاد کے حقیقی معنوں کا آج مجھے پتا چلا ہے۔جہاد کے ان حقیقی معنوں کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ جہاد کا لفظ سن کر ڈرا جائے بلکہ اس میں کوئی خوف والی بات ہی نہیں ہے۔کہتے ہیں یہاں آنے سے پہلے میرا خیال تھا اور میں ڈر رہا تھا کہ یہاں مجھ پر دہشتگرد حملہ بھی ہو سکتا ہے اس لئے میں نے