خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 172

خطبات مسرور جلد 15 172 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 ان کے گھر میں ہی پلی بڑھی ایک بچی جس کے میاں بھی دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں کارکن ہیں یہ کہتی ہیں کہ چار پانچ سال کی عمر سے آپ کے گھر میں ہوں۔آپ نے مجھے پڑھایا۔ہر لحاظ سے میری تربیت کی۔میری شادی کروائی۔شادی کے بعد جب کوئی کام ہو تا مجھے اپنے گھر بلوا لیتیں۔کہتی ہیں ایک دفعہ میرے گھر آئیں تو ایک پرانی طرز کا صوفہ پڑا ہوا تھا۔انہوں نے کہا یہ کہاں سے آیا ہے؟ بتایا کہ کسی ہمسائے نے دیا ہے۔انہوں نے کہا یہ صوفہ اٹھو اؤ اور نیا صوفہ فوری طور پر بنوا کر دیا۔یہ خاتون کہتی ہیں میرے بیٹے کی پڑھائی کا بڑا خیال رکھا اور آخری بیماری کے ایام میں بھی بیٹے کی شادی کے لئے زیور وغیرہ بنوا کر دیا اور ہر چیز کو باریکیوں سے دیکھتی تھیں۔اسی طرح رضاعی رشتوں کا بڑا خیال رکھنے والی تھیں۔ان کی رضاعی والدہ جو اُن کو دودھ پلانے والی تھیں ان کا بیٹا سوئٹزرلینڈ میں ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کی پریشانی میں اور ہر تکلیف میں ان کا بڑا خیال رکھا۔اسی طرح ان کی رضاعی بہن تھیں ان کے عزیز نے مجھے لکھا کہ انتہائی عاجزی سے اس کی بیماری کے دنوں میں اس کا خیال رکھا۔تو یہ بہت سارے اوصاف ان میں تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں میں بھی یہ اوصاف جاری فرمائے اور ان کا خلافت سے وفا کا تعلق ہو اور اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔نمازوں کے بعد تینوں مرحومین جن کا میں نے ذکر کیا ہے ان کا میں جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 05 مئی 2017 ء تا 11 مئی 2017ء جلد 24 شماره 18 صفحہ 09t05)