خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 171
خطبات مسرور جلد 15 171 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 سے ہر ایک سے ملتی تھیں۔میری بڑی ہمشیرہ امتہ الرؤوف صاحبہ نے لکھا کہ پارٹیشن کے بعد ماڈل ٹاؤن لاہور میں جب ہم حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے ساتھ رہتے تھے اس وقت حضرت مر زا شریف احمد صاحب سب کو اکٹھا کر کے باقاعدگی سے قرآن و حدیث پڑھاتے تھے تو کہتی ہیں اس کے بعد پھر ہماری پھوپھی، امتۃ الوحید صاحبہ جو فوت ہوئی ہیں، ان کو بھی اس وقت سے ایسی جاگ لگی کہ خود پڑھا اور پھر اپنے بچوں کو اور دوسرے بچوں کو بھی پڑھایا اور ایک بچے کی زبان کا مسئلہ تھا تو گھنٹوں بیٹھ کے دہرا دہرا کر قرآن کریم اس کو سکھایا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی مسئلہ نہیں رہا اور وہ بولنے والا بچہ ہے۔میری ہمشیرہ لکھتی ہیں کہ میٹرک کے بعد ایف۔اے ربوہ سے کیا۔تہجد کے بعد اپنی پڑھائی شروع کر دیتی تھیں اور نماز کی طرف بھی ہمیشہ توجہ رہتی تھی۔اسی طرح باقی لوگوں نے بھی مختلف اوصاف لکھے ہیں۔پھر ان کے بیٹے نے لکھا کہ خلافت سے پہلے تو جو آپ سے تعلق تھا وہ اور تھا اور خلافت کے بعد کہنے لگیں کہ بھتیجے کا رشتہ ختم ہو گیا، اب صرف خلافت کا رشتہ باقی رہ گیا ہے۔یہاں بھی جب آتی تھیں تو ملنے آتی تھیں۔بعض دفعہ بیٹھی ہوتی تھیں تو ایک دم کھڑی ہو جاتی تھیں۔میں نے کہا بھی کہ بیمار ہیں بیٹھی رہا کریں۔میری اہلیہ نے بھی کہا لیکن فوراً کھڑی ہو جاتی تھیں۔اللہ تعالیٰ پر بڑا تو گل تھا۔ایک دفعہ ان کے چھوٹے بیٹے کی شادی بڑے سے پہلے ہو گئی۔بڑے کے لئے انہوں نے گھر میں اپنا ایک حصہ بنایا ہوا تھا تو ان کے خاوند نے کہا کہ وہ حصہ چھوٹے کو دے دیں کیونکہ فی الحال اور توفیق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نہیں، جو بڑے کے لئے بنایا ہے وہ بڑے کے لئے ہی ہے۔اللہ تعالیٰ انتظام کر دے گا۔اور ایک دن اتفاق سے یا اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی کہ قرآن کریم پڑھتے ہوئے ایک آیت پر ان کی توجہ ہوئی اور انہوں نے اپنے خاوند کو کہا کہ اس آیت سے میں سمجھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری ضرورت پوری کر دے گا۔چنانچہ اس زمانے میں جو ستا زمانہ تھا انہوں نے کچھ پرائز بانڈ لئے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا ایک لاکھ روپے کا پرائز بانڈ نکلا جس کی وجہ سے انہوں نے وہ گھر بنا دیا۔پھر بیٹا یہ لکھتا ہے کہ جب حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی وفات کی اطلاع آئی تو ہم سب لوگ نماز کے لئے مسجد گئے ہوئے تھے اور ہماری امی بھی بڑے صدمہ میں تھیں تو اس وقت میری بڑی بھابھی نے اونچا رونا شروع کیا تو امی نے اسے کہا کہ خاموش ہو جاؤ، اس وقت جماعت پر ابتلاء کا وقت ہے اور یہ دعاؤں کا وقت ہے، اس وقت دعائیں کرو۔یہ کہتے ہیں کہ میں نو سال کا تھا جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی وفات ہوئی ہے۔بچہ تھا تو کسی بات پر میری ہنسی نکل گئی تو مجھے بڑے زور سے ڈانٹا کہ تم چپ کرو، تمہیں پتا نہیں کہ اس وقت جماعت کے کیا حالات ہیں۔بچپن سے ہی احساس دلا دیتی تھیں کہ جماعت کی اہمیت کیا ہے۔اسی طرح بچوں کو مختلف Incentive دے کے سورتیں یاد کرواتی رہیں۔