خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 173
خطبات مسرور جلد 15 173 16 نه فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 21 اپریل 2017ء بمطابق 21 شہادت 1396 ہجری شمسی بمقام Raunheim، فرینکفرٹ، جرمنی تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و احسان ہم پر ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے۔آپ کی بیعت میں شامل ہوئے ہیں۔اس بات کو جہاں ہمیں اپنے ایمانوں میں بڑھنے کا ذریعہ ہونا چاہئے کیونکہ اگر ماننے کے بعد ہم اپنے ایمان اور یقین میں نہیں بڑھتے تو اس ماننے کا کوئی فائدہ نہیں۔وہاں بغیر کسی احساس کمتری کے اور بزدلی کے احساس کے ہمیں کھل کر اسلام کا پیغام پہنچانا چاہئے۔بعض نوجوانوں میں بعض دفعہ یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں کہ مسلمانوں کی جو حالت ہے اور جو فتنہ اور فساد ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس لحاظ سے اس وجہ سے اسلام کے بارے میں زیادہ بات نہ کریں۔گو اکثریت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی ایکٹو (active) ہے اور جو لیف لیٹنگ (leafleting) وغیرہ کی رپورٹس آتی ہیں اس میں اظہار ہوتا ہے کہ کافی حصہ لیا گیا ہے لیکن ایک ایسی تعداد بھی ہے جو کسی نہ کسی لحاظ سے بعض دفعہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے۔مسلمان کہلانا تو ہے کیونکہ مسلمان ہیں لیکن اس کا زیادہ اظہار نہیں کرتے جس طرح ہونا چاہئے۔حالانکہ دوسرے مسلمانوں کے عمل سے تو ہمیں مزید جرآت پیدا ہونی چاہئے کہ اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کو دکھائیں اور بتائیں کہ جو اس وقت مسلمانوں کی حالت ہے یہ اسلام کی سچائی کی دلیل ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ ایک زمانہ آئے گاجب مسلمانوں میں بگاڑ پید اہو گا، فتنہ و فساد ہو گا، نام نہاد علماء اس کے ذمہ دار ہوں گے۔(الجامع لشعب الايمان للبيهقى جزء 3 حديث 1763 مطبوعه مكتبة الرشد ناشرون 2004ء) مسلمانوں پر دنیا داری غالب ہو جائے گی۔اور اس وقت مسیح موعود اور مہدی معہود کا ظہور ہو گا اور وہ اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔اسلام کے حقیقی پیغام کو وہ دنیا میں پھیلائے گا۔اور ہم احمدی وہ ہیں جو اس