خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 170

خطبات مسرور جلد 15 170 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 ہر عید پر عیدی بھجواتیں جیسے مائیں اپنی بیٹیوں کو بھجواتی ہیں۔کئی غریب بچیوں کو اپنے گھر میں پالا اور ان کی ہر طرح سے دینی اور دنیاوی تعلیم و تربیت کا خیال رکھا۔ایک ملازمہ کی بچی تھی جو انہوں نے خود پالی تھی اور یہ کہتی ہیں کہ اس کی شادی پر اپنی سب نندوں کو پیغام بھیجا کہ اگر تم اس کی شادی پر شامل نہ ہوئی تو میں تم لوگوں کے بچوں کی شادی میں شامل نہیں ہوں گی۔اس طرح غریبوں سے بھی قربت کا اظہار کرتی تھیں۔ان کی ایک سب سے چھوٹی نند جو ہیں وہ لکھتی ہیں کہ میں نے ایک دفعہ ان سے پوچھا کہ کتنی عمر سے آپ نے تہجد پڑھنی شروع کی تھی ؟ انہوں نے جواب نہیں دیا۔مجھے ٹالنا چاہا۔لیکن کہتی ہیں میرے بار بار کے اصرار پر انہوں نے بتایا کہ میں بارہ سال کی عمر سے با قاعدہ تہجد پڑھ رہی ہوں۔اسی طرح کئی بچیوں کے جہیز اور تعلیم کے اخراجات برداشت کرتی تھیں اور لجنہ کا جو دستکاری فنڈ ہو تا تھا اس میں سے بھی دلوایا کرتی تھیں۔بعضوں کی رونقیں ایسی ہوتی تھیں جہاں بچیوں کی شادی کی رونق ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، غریب بچی ہے تو اپنے گھر سے کھانے وانے کا بھی انتظام انہوں نے کیا۔اور خلافت سے اخلاص کا ایک واقعہ ان کے میاں خورشید احمد صاحب کے بھانجے لکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ شہد کی ایک شیشی پڑی تھی۔میں نے کہا مجھے دے دیں تو انہوں نے میرا کہا کہ یہ تو مجھے اُس نے بھیجی ہے۔یہ تو میں نہیں دے سکتی۔اس طرح کی ایک اور شیشی پڑی ہے وہ تم لے لو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے چھ بہوئیں تھیں۔ہر ایک سے ان کا بہترین سلوک تھا اور ہر ایک کو بیٹیوں کی طرح رکھا ہوا تھا اور ان کی چھوٹی بہو یہاں لندن میں ڈاکٹر حامد اللہ صاحب ہیں ان کی بیٹی ہیں۔ان کی اہلیہ بھی آجکل بیمار ہیں ان کی وجہ سے ان کی اس بہو کو، عطیہ کو لندن آنا پڑا تو انہوں نے کہا تم بے فکر ہو کر جاؤ۔باوجود اس کے کہ خود بیمار تھیں انہوں نے کہا تم جاؤ اپنی ماں کی خبر گیری کرو، یہاں بچے چھوڑ جاؤ میں بچے سنبھال لوں گی۔انتہائی تکلیف میں بھی بڑے صبر سے انہوں نے اپناہر کام کیا ہے۔میری چھوٹی ہمشیرہ لکھتی ہیں کہ کارکنان سے جب کام کرواتیں تو بڑے آرام سے کرواتیں اور نمائش کی ڈیوٹیوں میں بعض دفعہ نقصان بھی ہو جاتا تو زیادہ سختی نہیں کرتی تھیں۔بڑے تحمل کے ساتھ کام کرتی تھیں اور اس وجہ سے لجنہ کی ممبرات ان کے ساتھ کام کرنا پسند کرتی تھیں۔اسلامی امور میں بھی بہت زیادہ Prefect تھیں۔کار کنات کو کسی قسم کی تکلیف ہوتی تو اسے دور کرنے کی فوری طور پر کوشش کر تیں۔میری چھوٹی ہمشیرہ امتہ القدوس صاحبہ لکھتی ہیں کہ انسان کے عمل میں کمی بیشی تو ہوتی رہتی ہے تاہم ان کی گھٹی میں یہ چیز شامل تھی کہ قرآن وحدیث کے ساتھ بہت تعلق تھا۔نیکی تو گویا ان کی سرشت میں داخل تھی۔جب دیکھتیں کہ ہماری روایات اور تعلیم کے خلاف بات ہوئی ہے تو کھل کر اس کے خلاف بولتی تھیں۔سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے بچپن سے بہت لاڈلی تھیں لیکن بہت زیادہ انکسار تھا اور ہمیشہ انکساری