خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 169
خطبات مسرور جلد 15 169 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 سے چھ بیٹوں میں سے چار واقف زندگی ہیں۔اور پھر اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ گھر میں موجود ملازمین کے بچوں کو بھی بڑے احسن رنگ میں رکھا۔اگر کوئی قرآن شریف نہ پڑھا ہوا ہوتا تو اسے قرآن کریم پڑھا تیں۔اپنے بچوں کے ساتھ ان ملازمین کے بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھایا۔بڑی تعداد میں ایسے بچے ہیں جن کو ان کی عمر کے مطابق پہلے قرآن کریم ناظرہ اور پھر باترجمہ پڑھایا۔یہ لکھتے ہیں کہ کالج کے زمانے میں انہوں نے جب وہ پڑھ رہی تھیں خواب میں دیکھا کہ ان کے ماموں میاں عبد الرحمن صاحب جو مالیر کوٹلہ کے تھے انہوں نے بڑے خوش نما اور دیدہ زیب سونے کے کنگن کسی عورت کے ہاتھ آپ کے لئے بھجوائے ہیں اور ساتھ کہا کہ 65 تے 82'۔( یعنی 65 اور 82)۔وہ عورت آپ کو کنگن دیتے ہوئے کہتی ہے کہ 65 اور 82۔آپ تصدیق کے لئے دوبارہ پوچھتی ہیں کہ 65 اور 82 ؟ تو کہتی ہیں اس بارے میں مجھے اس وقت سمجھ آیا جب 65ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی وفات ہوئی اور 82ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی۔ان کے بیٹے عزیزم عدیل لکھتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر 100 سے زائد مہمان ہوتے تھے ان کی مہمان نوازی بڑی خوش دلی سے کرتیں اور جب حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے ہجرت کی ہے اس وقت ان کے سفر کے لئے چائے اور دوسری چیزوں کا انتظام انہوں نے کیا اور اپنے ہاتھ سے اپنی نگرانی میں بعض ایسی چیزیں جو ان کو پسند تھیں بنا کے بھجوایا کرتی تھیں اور وہی سلوک جو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے ساتھ تھا اسی طرح میرے ساتھ رکھا اور مجھے بھی وہ خاص حلوہ جو اُن کا ہوتا تھا اپنے ہاتھ سے اپنی نگرانی میں بنا کے بھیجا کرتی تھیں۔بڑا عزت اور احترام تھا۔اپنی والدہ کی بڑی خدمت کی۔اپنے ساس سسر کی بڑی خدمت کی۔اپنی نندوں کو چھوٹی بیٹیوں کی طرح رکھا۔تلاوت قرآن کریم اور نمازوں کی بڑی پابند تھیں اور بچوں کو بھی اسی طرح پابند رکھا اور مسجد بھجوایا کرتی تھیں اور بچوں کو پھر نماز فجر کے بعد تلاوت کے لئے بٹھاتیں ان سے کہتیں تلاوت کرو۔غریبوں کا خیال رکھنا، ملازمین کا خیال رکھنا بہت زیادہ تھا۔اور میں نے پہلے بھی بتایا کہ ایک گھر میں رہنے کی وجہ سے میرے سے بے تکلفی تھی تو ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ خلافت کے بعد انہوں نے کہا کہ پہلے تو میں زبر دستی بعض کام کروالیا کرتی تھی۔اب جو کام میرے ذمہ تھے یعنی ان کے کام جو میں انجام دیا کرتا تھا وہ کس طرح ہوں گے یا ان کی زمینوں کے معاملات تھے۔بہر حال میں نے ان کو تسلی دی تو اس کے بعد سے کبھی انہوں نے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کیا اور جو میں کہتا تھا اس کے مطابق ہمیشہ عمل کرتی رہیں اور راضی ہوتی رہیں۔ان کی ایک نند جو میری بھا بھی بھی ہیں وہ لکھتی ہیں کہ ہمارا ان سے تعلق بالکل ویسا ہی تھا جیسے ایک ماں کا اپنی بیٹیوں سے ہو تا تھا۔والدہ محترمہ کی وفات کے بعد ہم سب کا بہت خیال رکھا۔ہماری شادیوں میں جوڑے، زیور، جہیز وغیرہ کے سارے انتظامات خود کروائے جیسے ایک ماں اپنی بیٹی کے لئے کرتی ہے۔شادی کے بعد آج تک