خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 168
خطبات مسرور جلد 15 168 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 ان کا نکاح 26 دسمبر 1955ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے پڑھایا تھا اور اس وقت ان کے ساتھ حضرت سید میر محمود احمد کا نکاح بھی حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی بیٹی صاحبزادی امتہ المتین کے ساتھ ہوا۔پھر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ایک بیٹی کا نکاح بھی اعجاز الحق صاحب کے ساتھ ہوا۔تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 26 دسمبر کو جلسہ کے افتتاح سے پہلے فرمایا کہ افتتاحی کلمات اور دعا سے پہلے میں چند نکاحوں کا اعلان کروں گا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا کہ عام طریق تو یہی ہے کہ نکاح جلسہ کے بعد 29 دسمبر کو ہوا کرتے ہیں مگر ان نکاحوں میں کچھ مستثنیات ہیں۔آپ فرماتے ہیں ایک یہ کہ میری اپنی لڑکی امتہ المتین کا نکاح ہے جو سید میر محمود احمد صاحب ابن میر اسحاق صاحب سے قرار پایا ہے۔دوسرے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی لڑکی کا ہے اور تیسرے امۃ الوحید بیگم بنت مرزا شریف احمد صاحب کا نکاح ہے جو مرزا خورشید احمد ابن مرزا عزیز احمد سے قرار پایا ہے۔اور مرزا خورشید احمد صاحب واقف زندگی بھی ہیں۔اور پھر آگے حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ ابھی یہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور وقف کریں گے۔پھر حضرت مصلح موعود نے دعائیہ کلمات کہے اور فرمایا اللہ تعالی ان سارے نکاحوں کو بابرکت کرے دینی طور پر بھی اور دنیوی طور پر بھی اور آئندہ سلسلہ کی طاقت اور قوت کی بنیاد ان نکاحوں کے (ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 676،675،672) ذریعہ سے پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ بیٹے عطا فرمائے جن میں سے چار بیٹے واقف زندگی ہیں۔دو ڈاکٹر ہیں، فضل عمر ہسپتال میں کام کر رہے ہیں۔ایک پی۔ایچ۔ڈی ڈاکٹر ہیں جو نظارت تعلیم میں ہیں اور ایک وکیل ہیں جو صدرانجمن احمدیہ میں مشیر قانونی کے دفتر میں ہیں۔ان کی لجنہ کی خدمات کا عرصہ بھی تقریباً 29 سال پر پھیلا ہوا ہے جس میں سیکرٹری صنعت و تجارت اور نائب صدر اؤل رہیں اور سیکرٹری صنعت و تجارت کے طور پر جو انہوں نے خدمات بجالائیں اس میں ان کا ایک تو مزاج، ذوق بڑا اچھا تھا اور غریبوں سے کام کرواتی تھیں۔ہاتھ سے کڑھائی کا یا سلائی کا کام کروانے سے ایک تو ان کو اجرت مل جاتی تھی دوسرے نمائش میں ہمیشہ ربوہ کی لجنہ کی اس لحاظ سے کافی آمد ہو جایا کرتی تھی۔اپنے بالا افسر کی اطاعت قطع نظر اس کے کہ کیا رشتہ ہے اور کیا عمر کا فرق ہے، بے انتہا تھی۔میری اہلیہ نے مجھے بتایا کہ دوسال جب وہ صدر لجنہ ربوہ رہی ہیں تو یہ سیکرٹری صنعت و تجارت اور نائب صدر کے طور پر ان کے ساتھ کام کرتی رہیں اور ہمیشہ بڑی خوش دلی سے اور بڑی عاجزی سے ، بڑی اطاعت سے ساتھ کام کیا اور جو بھی ان کے ذمہ کام لگایا گیا اس کو انہوں نے بڑی بشاشت سے سر انجام دیا۔ان کے خاوند مکرم مرزا خورشید احمد صاحب کہتے ہیں کہ ایک واقف زندگی کی بیوی ہونے کا حق ادا کیا۔میرے سے کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا۔بچوں کی تربیت کا خیال رکھا اور یہی تربیت کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل