خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 167

خطبات مسرور جلد 15 167 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 درجات بھی بلند کرے اور ان کے بچوں کو بھی صبر اور حوصلہ دے۔اگلا ذکر ہے محترمہ صاحبزادی امتہ الوحید بیگم صاحبہ کا جو صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی اہلیہ تھیں۔10 اپریل 2017ء کو رات دس بجے تقریباً 82 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں اور میری پھوپھی بھی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پوتی اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی نواسی تھیں۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی ہے۔دو دفعہ بڑی خطر ناک بیماریوں سے یہ گزری ہیں لیکن بڑے صبر اور حوصلے سے بیماری برداشت کی اور ڈاکٹر نوری صاحب نے ان کے بارے میں لکھا کہ تقریباً پچھلی دو دہائیوں سے جب سے آپ بیمار تھیں میرے مشاہدے میں آپ نیکی کا ایک اعلیٰ نمونہ تھیں۔کہتے ہیں بیماری کی تکلیف کو نہایت صبر اور ہمت سے برداشت کیا۔کینسر کی بیماری تھی اور آخری دنوں میں تو مرض خطرناک حد تک چلا جاتا تھا۔کہتے ہیں یہ بیماری جسمانی اور ذہنی دونوں لحاظ سے خطر ناک ہوتی ہے اور پھر علاج بھی بڑا تکلیف دہ ہے لیکن اس کے باوجود آپ نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ طاقت اور صبر سے اس بیماری کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں حارج نہیں ہونے دیا اور بڑی ہمت اور صبر سے اس بیماری کا مقابلہ کیا۔اور ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ آپ ہنستے ہوئے اور بے خوف ہو کر سب کام کرتی رہتی تھیں اور خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی تھیں۔اپنی بیماری کے آخری ایام تک بھی گھر سنبھالا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے میاں کا بھی خیال رکھنے والی تھیں۔میاں کے ساتھ بھی ایک مثالی تعلق تھا۔خود بھی بیمار تھیں لیکن جب ان کے میاں مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی اینجیو پلاسٹی ہوئی ہے تو اپنی بیماری بھول کر ان کی تیمار داری بھی کرتی رہیں، خیال بھی رکھتی رہیں۔مہمان نوازی کا وصف ان میں بہت نمایاں تھا۔کسی وقت بھی کوئی آ جاتا تو خاطر تواضع کرتیں اور غیر مہمان بھی ان کے بڑے آیا کرتے تھے ، جلسہ کے دنوں میں بھی اور شوریٰ وغیرہ پر بھی تو ہمیشہ بہت زیادہ انہوں نے ان کا خیال رکھا۔بیماری کے بعد یہاں لندن بھی دو دفعہ آئی ہیں، مجھے ملی ہیں۔2005ء میں قادیان میں خلافت کے بعد میرے ساتھ پہلی دفعہ ملاقات ہوئی تھی۔پھر یہاں جب آئی ہیں تب بھی ملاقات ہوئی اور بڑا اخلاص اور وفا کا تعلق تھا ان کا خلافت کے ساتھ۔باوجو د بڑا رشتہ ہونے کے ، بڑی عمر ہونے کے انتہائی عاجزی سے ملتی تھیں۔ہماری والدہ کے ساتھ ان کا نند بھا بھی کا رشتہ تھا لیکن عمر کے لحاظ سے حضرت مرزاشریف احمد صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔اور میری سب سے بڑی ہمشیرہ اور یہ تقریباً ہم عمر ہی تھیں اور اس لحاظ سے میری والدہ نے ہمیشہ ان سے اپنے بچوں کی طرح سلوک کیا اور انہوں نے بھی کبھی ان کو بھا بھی نہیں سمجھا بلکہ ہمیشہ میں نے دیکھا ہے کہ بڑا ادب، احترام اور لحاظ تھا اور انہوں نے میری والدہ کو ہمیشہ بڑا بزرگ سمجھا اور ایک ایسا تعلق تھا جو مثالی تھا۔