خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 166
خطبات مسرور جلد 15 166 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 اس وقت ہسپتال جا کر میں ان کو ملا اور دیکھا کہ زخموں سے چور ہیں اور پیٹیوں میں لیٹے ہوئے ہیں لیکن چہرے پر ایک روحانی حفظ تھا۔بڑے خوش تھے اور خود ہی سارا واقعہ سنانے لگے کہ مخالفین پوچھتے تھے کہ مرزا غلام احمد نے کیا دعویٰ کیا ہے۔یہ بتاتے کہ ظلی نبوت کا دعویٰ کیا ہے تب مخالفین اور زیادہ مارتے۔مار مار کے جب آدھ موا کر دیتے تو پھر پوچھتے کہ وہ ظلتی نبوت کیا ہوتی ہے۔پھر یہ کہتے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں سرشار ہو کر جو نبوت ملتی ہے وہی آپ کی نبوت تھی۔پھر مخالفین مارتے۔بہر حال یہ بڑی شکر گزاری سے یہ واقعات سناتے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں یہ توفیق بھی مجھے ملی کہ بے انتہا ماریں کھائیں۔اور یہ مربی جو ہیں لکھنے والے وہ کہتے ہیں جب ان کا تبادلہ ہونے لگا تو مجھے کہتے ہیں کہ میرا تو یہاں سے تبادلہ ہو رہا ہے لیکن مخالفت کی جگہ پر جا کر آپ حکمت سے بہت زیادہ کام کریں اور آپ کو وہاں اس کا بہت زیادہ موقع ملے گا۔اور پھر مخالفت کے بارے میں سمجھاتے رہے کہ کس طرح کی مخالفت ہے، کس طرح تبلیغ کرنی ہے۔گویا کہ اپنے بعد میں آنے والوں کی بھی ہمت بڑھائی کہ ڈرنا نہیں۔احمدیت کے پیغام کو پہنچانا ہے تو جرات سے پہنچانا ہے۔ایک معلم صاحب ہیں وزیر صاحب وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ ان کو تہجد گزار پایا۔نمازوں کو انتہائی خشوع و خضوع سے پڑھنے والے، روزانہ تلاوت کرنے والے، نہایت خوش مزاج اور با عمل، خلافت سے خاص محبت ، نماز با جماعت کا خاص خیال رکھتے ، اچھے مہمان نواز سادگی پسند ، فضول خرچیوں سے بچنے والے تھے۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ موصوف کو مطالعہ کا بڑا شوق تھا۔پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔کوئی سوال پوچھا جائے تو بہترین رنگ میں جواب دیتے تھے۔اکثر جب بھی کسی پروگرام یا محفل میں خصوصاً سفر کے دوران خدام کے ساتھ بیٹھتے تو جماعت کا تذکرہ اور ایمان افروز واقعات سنایا کرتے تھے۔ہر ایک سے اعلیٰ اخلاق سے پیش آتے تھے جس کی وجہ سے ہر کوئی آپ کے ساتھ رہنا پسند کرتا تھا۔اور یہ کہتے ہیں کہ جب ان کو ایک دفعہ کاماریڈی میں لیفلیٹس تقسیم کرنے کی وجہ سے مخالفین نے ان کو مارنے کا پلان بنایا۔20 فروری یوم مصلح موعود کا جلسہ تھا۔یہ نماز سنٹر پہلے پہنچ گئے تھے۔اسی دوران سو افراد پر مشتمل غیر احمدیوں کا وفد آپ کی تلاش میں نکلا لیکن کیونکہ یہ پہلے مسجد پہنچ چکے تھے اس لئے ان کو راستے میں نہ مل سکے۔ان مخالفین مولویوں نے یہ طریقہ نکالا کہ معلم سلسلہ تھے ہمارے محمد عمر صاحب اور ان کی اہلیہ اور دو بچے نماز سنٹر میں جلسہ میں شرکت کے لئے جارہے تھے تو انہوں نے ان کو راستہ میں روک لیا اور کہا کہ جب تک ایچ ناصر الدین سامنے نہیں آئے گا ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔مرحوم کو جب پتالگا تو فوراوہاں پہنچے اور ان کو کہا کہ میں ناصر الدین ہوں۔چنانچہ معلم صاحب کو اور ان کی بیوی بچوں کو تو مخالفین نے چھوڑ دیا اور ان کو مارتے ہوئے لے گئے اور بڑا شدت سے سب نے مارا۔آخر میں پولیس کے ذریعہ سے پھر ان کی بازیابی ہوئی اور مخالفین کا یہی زور تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کا تم انکار کرو اور ان کو جھوٹا کہو۔اللہ تعالیٰ ان کے