خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 165

خطبات مسرور جلد 15 165 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 حراست میں رکھ کر مارا پیٹا۔میں جلسہ کی تقریر میں جو واقعات سناتا ہوں اس میں بھی ایک دفعہ میں نے ان کا مار پیٹ کا واقعہ سنایا تھا جو خوفناک طریقے سے مولویوں نے ان کو مارا تھا۔ان کے پسماندگان میں عمر رسیدہ والدہ ہیں، اہلیہ ہیں اور دو بیٹے ہیں۔ان کے دو بڑے بھائی ہیں۔ایچ سلیمان صاحب امیر ضلع پال گھاٹ کیرالہ اور ایچ ٹشمس الدین صاحب نظارت نشر و اشاعت قادیان کے ملیالم سیکشن میں اس وقت خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ان کے ساتھ خدمت کی توفیق پانے والے مبلغ نوید الفتح شاہد صاحب کہتے ہیں کہ مولانا ایچ ناصر الدین صاحب کیرالہ کے رہنے والے تھے۔تقریباً اٹھارہ سال سے صوبہ آندھرا اور تلنگانہ میں خدمت بجالا رہے تھے۔کہتے ہیں کہ اکثر اس وجہ سے یعنی ایک ہی علاقہ میں رہنے کی وجہ سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔میٹنگ میں نہایت عاجزی سے بیٹھتے تھے۔سلسلہ احمدیہ کی ترقی کے لئے ہر کام کرنے کے واسطے مستعد رہتے تھے۔بہت ہی پیار کرنے والے وجو د تھے۔عالم با عمل تھے۔بلاناغہ تہجد پڑھتے۔ہر روز با قاعدگی سے تعلیم و تربیت کرتے۔دفتری کام کے لئے ہر روز ایک خاص وقت ضرور رکھا ہوا تھا۔بزرگوں کی عزت ان کا ایک خاص وصف تھا۔چھوٹوں سے حسن سلوک بھی ایک خاص وصف تھا۔ہر روز با قاعدگی سے باہر نکلتے۔کوئی خوف نہیں تھا کہ مخالفین ہیں تو کیا کریں گے۔اور اس وجہ سے غیر احمدیوں کا بھی حلقہ ان کا بڑا وسیع تھا کیونکہ ان سے بھی بڑی بشاشت سے ملتے تھے۔بڑے ہر دلعزیز تھے۔کہتے ہیں میں نے کبھی ان کی پیشانی پر شکن نہیں دیکھی۔کبھی غصہ میں نہیں دیکھا۔اپنے ساتھی معلمین سے بھی بڑا حسن سلوک کرتے ہمیشہ ان کا خیال رکھتے اور ہر ایک سے ایسی محبت تھی کہ ہر کوئی جو اُن سے ملتا تھا وہ ان پر فدا ہو جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا بڑے اہتمام سے مطالعہ کرتے۔ان کا باقاعدگی سے مطالعہ تھا اور بڑا اہتمام تھا۔اس کے لئے انہوں نے خاص وقت رکھا ہوا تھا۔اور یہ بھی ہر مبلغ اور مربی کے لئے ایک انتہائی اہم اور ضروری سبق ہے۔قرآن مجید کی تلاوت سے کبھی غافل نہ رہتے۔ڈائری ہر روز با قاعدگی سے لکھتے اور ہمیشہ سے یہ عادت رہی کہ خلافت کی طرف سے جو بات کہی جائے اس کو غور سے سننا ہے۔ہمیشہ خطبات کو بڑے غور سے سنتے اور پھر نہ صرف سنتے بلکہ یہ کوشش ہوتی کہ پوری طرح عمل کرنا ہے۔کوئی تو جیہیں نہیں پیش کرنی بلکہ ہر ہر لفظ پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اور یہ بھی ایک بڑی اہم بات ہے واقفین زندگی کے لئے۔خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق اور محبت بے انتہا کا تھا۔اور یہ کہتے ہیں یہ ایسی خصوصیات تھیں جو ان کے وجو د میں نمایاں نظر آتی تھیں۔مخالفین نے کاماریڈی میں بلال مسجد میں لے جا کر ان کو بہت مارا اور صبر سے مار کھاتے رہے اور پیچھے نہیں ہے۔یہ مربی صاحب کہتے ہیں کہ مار کھا کر یہ ہسپتال میں داخل ہوئے۔پولیس کے ذریعہ ان کو نکلوایا گیا تھا تو