خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 164

خطبات مسرور جلد 15 164 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 مربیان کے لئے ، مبلغین کے لئے اس میں سبق ہے کہ اگر جماعتیں دُور دُور کی ہیں، کوئی نہیں آتاتب بھی نمازیں باجماعت ہونی چاہئیں، چاہے اپنے گھر والوں کے ساتھ پڑھیں۔پھر ان کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ جب آپ کاماریڈی میں متعین تھے تو وہاں لیفلیٹس تقسیم کرنے پر آپ کی مخالفت بڑھ گئی۔پکڑے گئے، مخالفین نے خوب مارا پیٹا۔لیکن آپ محض اللہ کے فضل سے بال بال بچ گئے۔اس کے بعد اہلیہ کہتی ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ یہاں تو بڑے خطرناک حالات ہیں، دشمنی ہے، مخالفت ہے، کیرالہ میں تبادلہ کی درخواست کر دیں کیونکہ آپ کی دشمنی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔تو کہنے لگے کہ ہم تو تبادلہ کروا کر چلے جائیں گے اور میں دشمنی کا حوالہ دے کے مرکز کو لکھوں گا تو مر کز شاید تبادلہ بھی کر دے۔لیکن یہاں کے مقیم احمدیوں کا کہاں تبادلہ کریں گے ؟ ان کے لئے تو دشمنی اسی طرح قائم ہے۔تو کہتے ہیں مخالفت سے ڈر کے جانا یہ صحیح بات نہیں ہے اس لئے ہمیں اپنے وقف کے عہد کو پورا کرنا چاہئے۔ہم وقف کر کے آئے ہیں اور جیسے بھی حالات ہیں ہمیں یہاں رہنا ہے اور ہمیں رہنا چاہئے۔یہی کہا کرتے تھے کہ اگر شہادت کی توفیق مل گئی تو پھر اس سے بڑا انعام کیا ہے ؟ اس لئے ہمیں یہیں رہنا ہے۔اسی طرح سادگی کا یہ حال تھا کہ اہلیہ بتاتی ہیں کہ کوئی فرنیچر کبھی نہیں خریدا تھا۔گھر میں کوئی ذاتی فرنیچر نہیں تھا اور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ہم وقف زندگی ہیں۔جماعت جہاں کہتی ہے ہم نے وہاں جانا ہے اس لئے کہیں کبھی فرنیچر یا گھر کا سامان جو ہے ہمارے فوری تبادلہ میں روک نہ بن جائے۔جو سہولت جماعت نے دی ہوئی ہے اسی پہ ہم نے گزارہ کرنا ہے اور اسی پر اکتفا کرنا چاہئے۔یہ بھی ایک مثال ہے ایک واقف زندگی کے لئے۔گزشتہ سال املہ پورم میں تبادلہ ہوا تھا وہاں بچوں کو قرآن شریف پڑھانے کے لئے اتنے پابند تھے کہ ایک کلومیٹر روزانہ پیدل یا سائیکل پر جا کر لوگوں کو قرآن کریم پڑھا کے آتے تھے۔یہ بھی ایک مثال ہے مبلغین کے لئے ، مربیان کے لئے۔پھر ان کی اہلیہ نے کہا کہ ان میں مہمان نوازی کی بڑی خوبی تھی۔کہتی ہیں اگر میں بچوں کی چھٹیوں کے موقع پر یا سکول کی چھٹیوں کے موقع پر کیرالہ آنے کی وجہ سے گھر میں نہ ہوتی اور مہمان آجاتے تو کبھی انہوں نے پریشانی نہیں دکھائی۔ہمیشہ خود ہی کھانا پکا کے مہمانوں کو کھلایا کرتے تھے۔شہادت کی بھی ان میں بہت تمنا تھی، پہلے ذکر ہوا۔انہوں نے کہا کہ میں نے بار بار حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اپنے والد مرحوم کو خواب میں دیکھا ہے اور میرے والد مجھے اشارہ کرتے ہیں، بلا رہے ہیں۔بہر حال ایک رنگ میں ان کی شہادت اس طرح بھی ہو گئی دینی خدمت کے لئے گئے ہوئے تھے اور وہیں اس دینی دورہ کے دوران ہی ان کی حادثاتی وفات ہوئی۔یہ بھی ایک قسم کی شہادت ہے۔بڑے دعا گو، تہجد گزار، ملنسار، تبلیغی میدان میں ایک نڈر مجاہد تھے۔کئی دفعہ مخالفین نے انہیں