خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 163
خطبات مسرور جلد 15 163 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 اسی طرح ساتھ لے جانے لگیں تو ہماری مسجدوں کی حاضری کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔) اور پھر کہتے ہیں کہ جماعتی ڈیوٹیوں میں ہمیشہ پہلے ہمیں لے کر جاتے۔شہید مرحوم نے حضرت خلیفہ المسیح الرابع کے زمانے میں خواب دیکھی تھی۔ان کے بھائی کہتے ہیں کہ آپ کی شہادت کے دو دن بعد اچانک مجھے وہ یاد آئی۔وہ خواب شہید مرحوم نے اس طرح بیان کی تھی۔کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ہمارے محلے کی ایک مسجد جو کہ غیر از جماعت کی ہے وہاں اعلان ہو رہا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع وفات پا گئے ہیں اور میں نے دیکھا کہ گھر کے لیٹر بکس میں ایک چھری پڑی ہوئی ہے۔اس وقت انہوں نے اس کی تعبیر یہ کی تھی کہ چھری دیکھنے سے مراد جماعت کو قربانیاں دینی پڑیں گی اور حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی وفات کے اعلان سے یہ مراد ہو سکتی ہے کہ ان کے دور میں جماعت اتنی ترقی کرے گی کہ وفات کا با قاعدہ سپیکروں پر اعلان ہو گا۔تو ان کے خیال میں تو یہ بہر حال ایم ٹی اے کے ذریعہ سے جو اعلان ہو تا رہا اس لحاظ سے وہ خواب بھی پوری ہو گئی اور انہوں نے چھری جو د یکھی تھی وہ ان کی شہادت کی طرف اشارہ تھا۔ان کے بھائی نے یہ تعبیر کی ہے اور یہی صحیح تعبیر لگتی ہے کہ شہادت کی طرف اشارہ تھا، وہ بھی ہو گئی۔کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی ہم پر سبقت لے گئے۔شہادت کے مرتبہ کو پا کر خاندان کا نام روشن کیا۔خاندان کے پہلے شہید بن کر ہم سب کے لئے ہمیشہ کے لئے مثال چھوڑ گئے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ان کے چھ بھائی اور ایک بہن ہیں جو تقریباً سارے باہر ہی ہیں۔دوسرے مرحوم جن کا ذکر کرنا ہے وہ مکرم ایچ ناصر الدین صاحب مبلغ انچارج ایسٹ گوداوری انڈیا ہیں۔7 اپریل 2017ء کو دریائے گوداوری میں ڈوب جانے سے 42 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔حادثہ کے روز آپ مکرم امیر صاحب سکندر آباد اور احباب جماعت کے ساتھ وانگل پوڑی (Vangalapudi) جماعت میں نماز فجر کے بعد دریا پر گئے۔اچھی تیرا کی جانتے تھے۔وہاں بعض احباب کے ساتھ تیرا کی کے دوران لاپتا ہو گئے۔پھر مچھیروں کی مدد سے ایک گھنٹہ کی تلاش کے بعد دریا کے کنارے ان کی لاش ملی۔مرحوم کے والد مکرم اے شاہ الحمید صاحب اپنے علاقے کا واشیر ی کیرالہ کے سب سے پہلے احمدی تھے۔انہی کے ذریعہ وہاں جماعت قائم ہوئی جبکہ آپ کی والدہ محترمہ چیلہ کنو کی ابتدائی احمدیوں میں سے تھیں۔مرحوم 2000ء میں قادیان سے فارغ التحصیل ہو کر صوبہ آندھرا اور تلنگانہ میں مختلف جگہوں پر کامیاب مبلغ کے طور پر خدمت بجالاتے رہے۔چنتہ کنٹہ کی بڑی جماعت میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔آپ نہایت حکمت سے تربیت کر کے اپنے ماتحت جماعتوں کو سنبھال رہے تھے۔وفات کے وقت بطور مبلغ انچارج ضلع ایسٹ گوداوری تعینات تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ بعض ایسی جگہوں پر بھی رہنا پڑا جہاں صرف جماعتی سینٹر قائم تھے۔وہاں پر اہلیہ اور بچوں کو لے کر نماز پڑھا کر درس دیتے تھے اور یہ سلسلہ وفات سے ایک روز پہلے تک جاری رکھا۔