خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 162
خطبات مسرور جلد 15 162 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 محترمہ عائشہ صاحبہ نے خاندان کی سربراہی کرتے ہوئے خاندان کے ہمراہ انڈیا سے پاکستان لاہور ہجرت کی۔کچھ عرصہ کیمپ میں رہنے کے بعد پھر سنت نگر لاہور میں رہائش اختیار کی جہاں شہید مرحوم کی 1949ء میں پیدائش ہوئی۔چند سال بعد یہ خاندان ربوہ میں منتقل ہو گیا۔شہید مرحوم کی ابتدائی تعلیم ربوہ کی ہے۔میٹرک پاس کرنے کے بعد ویٹرنری کالج لاہور میں داخلہ لیا۔پھر دوبارہ ان کی فیملی اس وجہ سے لاہور منتقل ہو گئی۔ایم۔ایس۔سی ویٹرنری کرنے کے بعد ویٹرنری کالج میں بطور لیکچر رملازمت اختیار کی اور پھر پروفیسر کے عہدے تک ترقی ہوئی۔مرحوم کے والد شیخ سلطان احمد صاحب پنجاب پولیس میں سب انسپکٹر تھے اور پھر ایف ایس ایف (FSF)جب بنی ہے تو وہاں انسپکٹر کی خدمات سر انجام دیتے رہے۔مرحوم اللہ کے فضل سے موصی تھے۔خلافت سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔تہجد گزار اور مہمان نوازی اور خدمت خلق کرنے والے، عہدیداران کی اطاعت کرنے والے نیک مخلص انسان تھے۔ہمیشہ جماعتی خدمت میں پیش پیش رہتے اور نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔بلند اخلاق اور ملنسار ہونے کی وجہ سے اپنے سٹوڈنٹ اور ساتھی پر وفیسر وں میں یکساں مقبول تھے۔اپنے ساتھی پروفیسروں کو اکثر گھر پہ کھانے پہ بلا لیا کرتے تھے اور جماعت کا موئثر انداز میں تعارف کرواتے۔اس وجہ سے بعض اوقات آپ کو دھمکیاں بھی ملتی تھیں لیکن کبھی پرواہ نہیں کی بلکہ کہا کرتے تھے یہ تو معمولی بات ہے۔بچپن سے ہی شہید مرحوم کو جماعتی خدمت کا جذبہ بہت زیادہ تھا اور جماعتی اور تنظیمی سطح پر مختلف شعبہ جات میں کام کرنے کی توفیق ملی۔حلقہ سبزہ زار میں رہائش پذیر ہونے کے بعد حلقہ کے صدر اور نائب زعیم اعلیٰ کے طور پر احسن رنگ میں خدمت کی توفیق ملی۔اس سال آپ کی تقرری بطور سیکرٹری دعوت الی اللہ امارت علامہ اقبال ٹاؤن لاہور ہوئی تھی اور بڑے اچھے انداز میں آپ نے اپنی دعوت الی اللہ کا آغاز کیا تھا، پروگرام بنائے تھے۔ان کی اہلیہ کو جوڑوں کی بیماری تھی، بڑا لمبا عرصہ بیمار رہیں اور بڑی خوشی سے انہوں نے ان کی بھی خدمت کی اور گزشتہ سال دسمبر میں ان کی اہلیہ کی وفات ہو گئی تھی۔ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ایک لے پالک بیٹا ہے اور اسی کے دو بچے ہیں شاہ زیب اور شاذیل جو ان کے پاس لاہور میں رہتے ہیں اور ان میں سے ایک بچہ جمعہ پہ جاتے ہوئے ان کے ساتھ تھا۔ان کے ایک بھائی الیاس صاحب برمنگھم میں رہتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ بہت شفیق بھائی تھے۔چھوٹے بھائیوں کا بڑے بھائی کی طرح نہیں بلکہ باپ کی طرح خیال رکھا۔ہماری تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔نماز اور اس کا ترجمہ ، قرآن کریم سب کچھ ہم نے آپ سے سیکھا۔اپنے چھوٹے بھائیوں کا خیال رکھتے تھے۔تعلیم میں بھی آپ نے ہمیشہ ہماری مدد اور رہنمائی کی۔سکول جا کر ہمارے اساتذہ کو ملتے اور ہمارے بارے میں فکر مند رہتے۔جماعتی پروگراموں میں بڑے اہتمام سے ہمیں تیار کر کے ساتھ لے جاتے۔مختلف علمی مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے تیار کرتے۔نماز باجماعت کے لئے ساتھ لے کر جاتے۔(اگر بڑے بھائی اپنے چھوٹے بھائیوں کو اور والدین بھی بچوں کو