خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 161
خطبات مسرور جلد 15 161 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 کہہ دیں کہ یہ جگہ بھی تنگ ہو گئی تو یہ کوئی جواب نہیں، نہ عقلمندی ہے۔بہر حال آج کے خطبہ کے لئے پہلے تو میں نے کچھ اور مضمون لیا تھا لیکن پھر بعض مرحومین کا جنازہ پڑھانا تھا تو ان کی کچھ باتیں سامنے آگئیں اس لئے میں نے سوچا ہے کہ آج انہی کا ذکر کروں گا جن میں سے ایک شہید ہے، ایک مربی سلسلہ ہے اور ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی ہیں۔ان لوگوں کے بعض اوصاف ایسے ہیں جو جماعت کے ہر طبقے کے لئے نیک مثال ہیں۔اور یہی ایسی باتیں ہیں جو ہم میں سے بہتوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہیں۔بہت سوں کے لئے ان میں سبق ہیں۔پس میں نے مناسب سمجھا کہ بجائے ان مرحومین کے مختصر ذکر کے کچھ کھول کر ان کے بارے میں بیان کروں۔ہر ایک کی سیرت کے پہلو جو میرے سامنے لائے گئے ہیں یا جو مجھے علم تھے وہ ایسے ہیں جو من قطى نَحْبَهُ (الاحزاب :24) کے مصداق ان لوگوں کو بناتے ہیں۔جو اپنے عہدوں اور اپنی نیتوں اور ارادوں کو پورے کرنے والے لوگ تھے۔جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہوئے اپنی زندگیاں بسر کیں اور اسی طرح خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔ان میں سے پہلے ہمارے شہید بھائی پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب ہیں جو گزشتہ جمعہ شہید کئے گئے۔پروفیسر ڈاکٹر ریٹائر ڈ اشفاق احمد صاحب، شیخ سلطان احمد صاحب لاہور کے بیٹے تھے۔ان کی عمر 68 سال تھی۔گزشتہ جمعہ یہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے اپنی کار میں بیت التوحید جارہے تھے کہ راستے میں ایک موٹر سائیکل سوار معاند احمدیت نے فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔انا للهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔کہتے ہیں تفصیلات کے مطابق وقوعہ کے روز شہید مرحوم اپنے بارہ سالہ پوتے عزیزم شاہ زیب اور حلقہ سبزہ زار کے ایک احمدی دوست مکرم ظہیر احمد صاحب کے ساتھ اپنی کار میں جمعہ کے لئے مسجد جارہے تھے۔شہید مرحوم خود گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے۔ان کا پوتا آگے دوسری سیٹ پر بیٹھا تھا۔دوسرے دوست پیچھے بیٹھے تھے۔سبزہ زار سے ملتان روڈ پہنچے جہاں سڑک زیر تعمیر ہونے کی بنا پر ٹریفک رکا ہوا تھا۔ان کی گاڑی رکتے ہی ہیلمٹ پہنے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار شخص نے ڈرائیونگ سیٹ کے قریب آکر ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر گولی چلا دی اور فرار ہو گیا۔فائر لگنے سے گولی کنپٹی سے آر پار ہو گئی اور موقع پر ہی آپ نے جام شہادت نوش کیا اور دوسرے دونوں محفوظ رہے ان کو انہوں نے کچھ نہیں کہا۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ شہید مرحوم کے دادا مکرم شیخ عبد القادر صاحب کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لدھیانہ تشریف آوری کے زمانے میں ہوا۔آپ کے خاندان کا تعلق سنگر ور مشرقی پنجاب انڈیا سے تھا۔اس علاقے کے ایک بزرگ مکرم پیر میراں بخش صاحب نے احمدیت قبول کرنے کے بعد شہید مرحوم کے دادا کو احمدیت قبول کرنے کی طرف دعوت دی۔اس پر شہید مرحوم کے دادا نے مع خاندان احمدیت قبول کر لی۔پاکستان کے قیام سے قبل شہید مرحوم کے دادا وفات پاگئے تھے۔قیام پاکستان کے بعد ان کی دادی