خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 160

خطبات مسرور جلد 15 160 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اپریل 2017 چھوٹے اعتراض لگاتی چلی جارہی ہے۔تو یہ باتیں ان کو پہلے مد نظر رکھنی چاہئے تھیں کہ کونسل کوئی ان کے زیر انتظام نہیں ہے کہ جائیں گے اور کلیئرنس لے لیں گے۔جب عمارت خریدی گئی تھی اس وقت سے سنجیدگی سے اور فوری طور پر اس کے استعمال کی اجازت اور جو بھی تبدیلیاں کرنی تھیں اس پر کام شروع ہو جانا چاہئے تھا اور اگر وہ کام شروع ہو تا تو آج اتنی دقت نہ ہوتی۔گو ان کے خیال میں آج کی یہ جگہ بہت بڑی تھی اور ایسٹر کی چھٹیوں کی وجہ سے لوگوں کے زیادہ آنے کی وجہ سے یہ جگہ بھی کم ہو رہی ہے اور یہ تنگی بیت العافیت میں بھی ہو سکتی تھی لیکن عمومی جمعے وہاں ادا کئے جاسکتے تھے۔دو تین سال ہو گئے ہیں عمارت خریدے ہوئے اور ابھی تک اس کے استعمال میں بعض روکیں ہیں۔اس وقت جب یہ عمارت خریدی گئی تھی دنیا کے حالات بھی کچھ بہتر تھے۔مسلمانوں کے حوالے سے کچھ بہتر حالات تھے اور اس وجہ سے جلدی اجازت بھی مل سکتی تھی اگر اُس وقت کام شروع ہو تا۔لیکن آج مسلمانوں کے بارے میں جو اُن کے تحفظات ہیں وہ بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے دقتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔شاید امیر صاحب اور انتظامیہ یہ کہے کہ یہ وجہ نہیں ہے، اس طرح ہونا ہی تھا۔لیکن بہر حال یہ ان لوگوں کی سستی ہے اور ہر کام کو لٹکانے کی عادت بھی ہے جس کی وجہ سے آج ہمیں دقتیں پیش آرہی ہیں۔اللہ تعالیٰ انتظامیہ کو عقل اور سمجھ بھی دے اور خوش فہمیوں میں مبتلا ہونے سے ان کو بچائے اور حقائق سمجھتے ہوئے یہ کام کرنے والے ہوں۔آپ لوگوں نے اپنے عہدیدار منتخب کئے ہیں تو آپ کا فرض بھی بنتا ہے کہ ان کے کاموں میں اٹکل پیدا کرنے کے لئے اور عقل پیدا کرنے کے لئے ان کے لئے با قاعدہ دعا بھی کرتے رہا کریں۔بہر حال چند منٹ میں ہی ہم نے تین چار جہاز گزرنے کی آوازیں سن لیں، یہ تو برداشت کرنا پڑے گا۔دوسری صورت یہی ہو سکتی تھی کہ محدود تعداد میں لوگوں کو جمعہ پر آنے کے لئے کہا جاتا اور عورتوں پر بھی پابندی لگا دی جاتی۔پاکستان میں یا ان ملکوں میں جہاں جماعت کی مخالفت ہے اور حالات کی وجہ سے عورتوں کو جمعہ پہ آنے سے روکا جاتا ہے۔اسی دوران جمعے مختلف جگہوں پر پڑھے جاتے ہیں، ایک مرکزی جگہ پر نہیں پڑھے جاتے۔الجزائر میں تو مکمل پابندی ہے کہ کسی سینٹر میں بھی بلکہ گھروں میں بھی جمعہ نہیں ہو سکتا۔تو وہاں تو ظالمانہ قانون اور دشمن کے خوف کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے اور یہاں جہاں مذہبی آزادی ہے یہاں یہ روکیں لگانا ہماری ستی اور معاملات کی اہمیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہو گا اور ہو رہا ہے۔بہر حال دعا کریں کہ آئندہ جمعہ کے لئے یعنی آئندہ آنے والا جمعہ تو نہیں لیکن آئندہ جب بھی آنے کا پروگرام بنے گا انشاء اللہ تو اس وقت بیت العافیت کے استعمال کی اجازت مل جائے یا کم از کم ان کو ایسی جگہ میسر آئے جہاں سب آرام سے سموئے جائیں، سمٹے جائیں۔یہ تنگی وہاں بیت العافیت میں بھی کچھ وقت کے لئے تو دور ہو سکتی ہے۔جماعت تو انشاء اللہ بڑھنی ہے اور بڑھتی جارہی ہے اس لئے جو بھی جگہیں ہم لیں گے چھوٹی ہوتی جائیں گی لیکن ایک جگہ لے کر پھر اپنی سستی کی وجہ سے کئی سال استعمال نہ کر کے یہ