خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 154

خطبات مسرور جلد 15 154 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اپریل 2017 ہی فیصلہ کر لیں گے کس مسجد میں جا کر نماز پڑھیں۔بہر حال کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس گاؤں میں اب احمدیت کی بدولت باقاعدہ جمعہ کا آغاز ہو گیا ہے اور باوجود مخالفت کے احباب جماعت بڑی ثابت قدمی سے اپنے ایمان پر بھی قائم ہیں اور جمعہ بھی ادا کر رہے ہیں۔خوابوں کے ذریعہ سے بہت سوں کو اللہ تعالی رہنمائی فرماتا ہے۔دنیا میں ہر جگہ اس طرح رہنمائی ہوتی ہے۔کنور کیرالہ ہندوستان کے مبلغ انچارج ایک نو مبائع کی قبول احمدیت کا واقعہ لکھتے ہیں کہ بیعت سے پہلے وہ نو مبائع کافی پریشان رہتے تھے۔جس پر انہیں کسی نے بتایا کہ آپ کی پریشانی کا حل کثرت سے درود پڑھنا ہے۔آپ بہت زیادہ درود پڑھا کریں۔چنانچہ موصوف نے درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ایک دن انہوں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ دیکھا اور ایک خالی قبر کو بھی دیکھا۔وہاں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عنقریب آپ سے ملاقات ہو گی۔جب انہوں نے یہ خواب غیر احمدی مولوی کو سنائی تو اس نے کہا یہ مبارک خواب ہے آپ ایک اعلیٰ مقام پر پہنچنے والے ہیں۔اس خواب کے چند دنوں بعد ایک سفر کے دوران ان کی کسی احمدی سے ملاقات ہوئی جس پر اس احمدی نے کہا کہ آپ کے شہر میں جو مسجد نور ہے وہاں ضرور جائیں۔چنانچہ اس کے مطابق وہ ایک دن جماعت کی نور مسجد میں آئے اور جمعہ کی نماز میں شامل ہوئے۔وہاں ان کا جماعت کے ساتھ تعارف ہوا اور باقاعدہ جماعتی کتب کا مطالعہ کرنے لگے۔پھر بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔تو کہتے ہیں اس طرح پر واضح ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عنقریب ملاقات کرنے کا مطلب جماعت احمدیہ میں شمولیت تھا۔پھر بین کے مبلغ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے معلم حمدی جبریل صاحب ایک مقامی ریڈیو پر تبلیغ کا پروگرام کیا کرتے ہیں۔ایک دن ان کے پروگرام میں ایک عورت کی کال موصول ہوئی۔کہنے لگیں کہ میرے لئے حیرت کی بات ہے کہ مسیح کی آمد ثانی ہو گئی ہے اور ہمیں پتا ہی نہیں۔میں مسلمان ہوں اور میری فیملی عیسائی ہے اور وہ مجھے اس بات پر لاجواب کر دیتے ہیں کہ مسلمان تو خود کہتے ہیں کہ ان کی ہدایت کے لئے مسیح کی آمد ہو گی تب ان کو ہدایت ملے گی۔تو وہ کہتی ہے کہ آپ میرے گاؤں آئیں اور ان کو تبلیغ کریں۔چنانچہ اس گاؤں میں چند تبلیغی نشستوں سے اس گاؤں کے 227 افراد نے بیعت کر کے احمدیت قبول کر لی۔جہاں مولوی کا زور چلتا ہے وہاں وہ ڈرا دھمکا کر احمدیت سے دور کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مولویوں کے اس فعل کی وجہ سے لوگوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔بہت سے ایسے واقعات ہیں۔ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں۔زیمبیا کے شمالی صوبہ کا ایک شہر مپور و کوسو (Mporokoso) ہے اس کے بارے میں وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ اس جگہ پر گذشتہ سال جماعت کا قیام ہوا۔وہاں پر مولویوں نے ایک