خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 155
خطبات مسرور جلد 15 155 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اپریل 2017 میٹنگ بلائی۔(وہاں پرانے مسلمان ہیں۔) جس میں مختلف لوگوں کو مدعو کیا گیا جس میں ایک محمد سعید صاحب بھی تھے جن کا ہماری جماعت سے رابطہ تھا لیکن احمدی نہیں ہوئے تھے۔میٹنگ کے دوران مولوی کہنے لگے کہ ہم قادیانیوں کو کسی قیمت پر ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں بھی یہ لوگ جائیں گے ہم ان کا پیچھا کریں گے اور ان کو ڈرائیں گے دھمکائیں گے اور اگر لوگ جماعت سے پیچھے نہ ہٹے تو ہمیں انہیں جان سے بھی مار نا پڑا تو وہ بھی کر دیں گے۔ان مولویوں نے سعید صاحب سے کہا کہ تم بھی احمدیوں سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھو۔(ان کو پتا تھا کہ آنا جانا ہے۔ان کو دھمکی دی کہ اگر تم نے جماعت احمدیہ کے ساتھ اپنا تعلق نہ کاٹا تو ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔نتیجہ کیا ہوا کہ محمد سعید صاحب مولویوں کی اس میٹنگ کے بعد اپنی فیملی سمیت جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔انہوں نے آکے کہا اچھا تم مجھے دھمکاؤ میں بیعت کرتا ہوں۔اس کے علاوہ بھی اس میٹنگ کے بعد شہر کے کوئی 25 افراد نے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ڈرانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان پر حق کھل گیا اور جو پہلے احمدی تھے ان سے بھی جماعت کی تعداد مزید بڑھ گئی اور جماعت کی آغوش میں آگئے۔یہی حال الجزائر میں ہو رہا ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے۔احمدیت کا تعارف بڑھ رہا ہے اور وہاں کے رہنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ ایک وقت آئے گا جب وسیع پیمانے پر لوگ احمدیت میں یہاں بھی شامل ہو نا شروع ہو جائیں گے۔انشاء اللہ پھر ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے امیر صاحب تنزانیہ لکھتے ہیں کہ نیا نگامارا(Nyangamara) میں ایک لمبے عرصے سے جماعت قائم تھی مگر وہاں صرف ایک دو گھرانے احمدی تھے۔اس سال (یعنی 2016ء میں ) مقامی جماعت کے افراد کے تعاون سے وہاں با قاعدہ تبلیغی پروگرام کیا گیا جس میں حاضرین کو خلافت کی اہمیت کے حوالے سے بتایا گیا۔چنانچہ لوگوں کو خلیفہ وقت کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ان لوگوں نے ایک غیر از جماعت جس کے پاس ڈش اور ٹی وی تھا اس سے درخواست کی کہ وہ اپنے ٹی وی پر ایم ٹی اے لگائے۔چنانچہ اس نے ایم ٹی اے لگایا اور لوگوں کوئی وی پر خلیفہ المسیح کو دیکھنے کا موقع ملا۔اس طرح جماعت کے لئے تبلیغ کا نیا رستہ کھل گیا۔کہتے ہیں اس سال (اسی سال جس سال کا ذکر ہو رہا ہے یعنی 2016ء میں) ہمارا وفد اگلے مہینہ دوبارہ ان کے ہاں تبلیغ کے لئے گیا تو ایک مولوی نے پروگرام کے دوران فتنہ ڈالنے کی کوشش کی اور ہمیں لگا کہ شاید یہ پروگرام کامیاب نہیں ہو سکے گا۔لیکن خدا کی نصرت ایسی ہوئی کہ تبلیغی پروگرام اور سوال و جواب کے بعد مقامی لوگوں میں سے بعض جنہوں نے ابھی تک بیعت نہیں کی تھی ان مولوی صاحب کو کہنے لگے کہ اگر احمدی کا فر ہیں تو ہم بھی احمدی ہیں۔تم اس گاؤں سے نکل جاؤ، احمدی نہیں نکلیں گے۔چنانچہ مولوی کی اس مخالفت کی وجہ سے لوگوں کا جماعت کی طرف زیادہ رجمان ہوا اور کل 38 افراد نے احمدیت کو قبول کرنے کی سعادت پائی اور نئی بیعت کرنے والوں میں سے ایک نے اپنا ایک پلاٹ بھی مسجد کے لئے وقف کیا اور ایک نو مبائع نے کہا کہ چونکہ میر اگھر بڑا ہے نیز دوسرے دوستوں کے